صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
202. (201) باب استحباب اغتسال الجنب للنوم.
جنبی شخص کا سونے کے لیے غسل کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 259
نا بُنْدَارٌ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا: كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ" . نَاهُ نَصْرُ بْنُ بَحْرٍ الْخَوْلانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ حَدَّثَهُ، بِمِثْلِهِ، وَقَالَ:" رُبَّمَا تَوَضَّأَ وَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ"، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً
حضرت عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں کیسے سوتے تھے؟ تو اُنہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر طرح کرلیا کرتے تھے، بعض اوقات غسل کر کے سو جاتے اور بعض دفعہ وضو کر کے سو جاتے۔ امام صاحب اپنے استاد نصر بن بحر خولانی سے حضرت عبد بن ابی قیس رحمہ اللہ ہی روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نےکہا، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتےاور غسل کرنے سے پہلے سو جاتے۔ تو میں نے کہا کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے اس کام میں وُسعت و سہولت رکھی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل التطهير والاستحباب من غير فرض ولا إيجاب/حدیث: 259]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 286، 288، 1146، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 305، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 213، 215، 218، 259، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1217، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 255، وأبو داود فى (سننه) برقم: 222، 1363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 118، 119، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 581، 582، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 982، والدارقطني فى (سننه) برقم: 453، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24717»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 259 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 259
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ غسلِ جنابت فی الفور واجب نہیں ہے۔ (بلکہ اس میں تاخیر جائز ہے) اور نماز کا وقت ہونے پر غسلِ جنابت فی الفور لازم ہے، اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 218/3]
➋ جنابت کے بعد غسل کر کے سونا افضل عمل ہے اور اگر کوئی غسل میں سستی کرے تو باوضو ہو کر سونا مستحب ہے، سونے سے قبل ان دونوں چیزوں میں اختیار ہے البتہ سونے سے قبل (غسل و وضو) نہ کرنے والا شخص گناہ گار نہیں ہو گا۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ غسلِ جنابت فی الفور واجب نہیں ہے۔ (بلکہ اس میں تاخیر جائز ہے) اور نماز کا وقت ہونے پر غسلِ جنابت فی الفور لازم ہے، اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 218/3]
➋ جنابت کے بعد غسل کر کے سونا افضل عمل ہے اور اگر کوئی غسل میں سستی کرے تو باوضو ہو کر سونا مستحب ہے، سونے سے قبل ان دونوں چیزوں میں اختیار ہے البتہ سونے سے قبل (غسل و وضو) نہ کرنے والا شخص گناہ گار نہیں ہو گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 259]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 259 in Urdu
معاوية بن صالح الحضرمي ← عبد الله بن عفيف النصري