🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
206. ‏(‏204‏)‏ باب الرخصة فى النزول فى السفر على غير ماء للحاجة تبدو من منافع الدنيا
سفر میں دنیوی منفعت کے لیے کسی ایسی جگہ پڑاؤ ڈالنے کی رخصت ہے جہاں ضرورت کے لیے پانی نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 262
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَقَالُوا: أَلا تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ على فَخِذِي قَدْ نَامَ" ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے حتیٰ کہ جب ہم مقام بیداء یا ذات جیش پر تھے تو میرا ہار ٹوٹ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی تلاش میں رُک گئے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رُک گئے۔ جبکہ وہ پانی کے مقام پر نہیں تھے۔ تو لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ جانتے نہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے؟ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو ٹھہرا دیا ہے جبکہ وہ پانی کے مقام پر نہیں ہیں اور نہ اُن کے پاس پانی ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سو چُکے تھے۔ پھر مکمل حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب التيمم عند الإعواز من الماء فى السفر،/حدیث: 262]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 334، 336، 3672، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 367، ومالك فى (الموطأ) برقم: 169، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 261، 262، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1300، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 309، وأبو داود فى (سننه) برقم: 317، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 568، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1006، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24937، والحميدي فى (مسنده) برقم: 165»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة أفضل أهل زمانه
👤←👥عبد الرحمن بن القاسم التيمي، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن القاسم التيمي ← القاسم بن محمد التيمي
ثقة ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الرحمن بن القاسم التيمي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة حافظ
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 262 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 262
فوائد:
➊ تیمم کتاب و سنت اور اجماع کی رو سے ثابت ہے اور یہ اس امت کا خاصہ ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے نوازا اور اس کے شرف میں اضافہ کیا ہے۔
امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ تیمم فقط چہرے اور ہاتھوں کا ہے، خواہ حدث اصغر ہو یا حدث اکبر اور خواہ تمام اعضاء یا بعض اعضاء کا تیمم کیا جائے، تیمم میں چہرہ اور دونوں ہاتھ ہی معتبر ہیں۔ [شرح النووي: 55/4]
➋ پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں تیمم مشروع ہے اور اس کی کوئی حد معین نہیں، بلکہ یہ تیمم وضو کے قائم مقام ہے اور اس پر وضو کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے۔
البتہ پانی کی فراہمی کی صورت میں تیمم ختم ہو جاتا ہے اور اس صورت میں حدث اکبر میں مبتلا شخص کا غسل کرنا لازم ہے اور باقی آدمی آئندہ نماز کے لیے وضو کریں گے۔
➌ اگر پانی دستیاب نہ ہو اور تیمم میں بھی دشواری ہو تو اس صورت میں انسان کا وضو اور تیمم کے بغیر نماز پڑھنا جائز ہے۔
➍ اس حدیث میں خانوادہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے کہ یہ خاندان مسلمانوں کے لیے رحمت اور برکت کا باعث تھا اور اس خاندان کی وجہ سے کئی مسائل میں تخفیف ہوتی تھی۔
➎ کسی دنیاوی منفعت کے لیے سفر میں ایسی جگہ اترنا جائز ہے جہاں پانی میسر ہو، وہاں پڑاؤ ڈالنا بہتر ہے۔
کیونکہ پانی کی صورت میں وضو و غسل کی ادائیگی میں آسانی رہتی ہے اور طہارت کی پریشانیوں سے انسان محفوظ رہتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 262]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 262 in Urdu