صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1856. (115) باب الرخصة فى غسل المحرم رأسه
محرم کو اپنا سر دھونے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 2650
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حسينٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: امْتَرَى الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ وَهُمَا بِالْعَرْجِ فِي غُسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ، وَقَالَ مَرَّةً فِي غَسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ أَسْأَلُهُ، فَأَتَيْتُهُ بِالْعَرْجِ، وَهُوَ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآنِي ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى صَدْرِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ أَسْأَلُكَ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟" فَأَمَرَ بِدَلْوٍ فَصَبَّ، فَأَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا فِي رَأْسِهِ ، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ"، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لَهُ الْمِسْوَرُ: لا أُمَارِيكَ فِي شَيْءٍ بَعْدَهَا أَبَدًا
جناب عبد اللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مسور بن مخرمہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا عرج مقام پر محرم کے اپنا سر دھونے کے بارے میں اختلاف ہو گیا۔ ایک مرتبہ راوی نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کے حالت احرام میں) اپنا سر مبارک دھونے کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ تو انہوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا۔ میں اُن کے پاس عرج مقام پر حاضر ہوا تو وہ کنویں کی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کر رہے تھے۔ میں نے اُنہیں سلام کیا۔ اُنہوں نے جب مجھے دیکھا تو کپڑا اپنے سینے پر لپیٹ لیا حتّیٰ کہ میں نے اُن کے سینے کو دیکھا۔ میں نے عرض کیا، مجھے آپ کے بھتیجے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ میں آپ سے دریافت کروں کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں اپنا سر مبارک کیسے دھوتے ہوئے دیکھا تھا۔ لہٰذا اُنہوں نے پانی کا ایک ڈول منگوایا، اس میں سے پانی انڈیلا اور اپنے سر پر بہایا۔ پھر اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصّے کو ہاتھوں سے ملا۔ اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ جناب عبداللہ بن حنین کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو آ کر بتایا تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے کہ میں اس کے بعد کبھی بھی آپ سے کسی مسئلے میں بحث و تکرار نہیں کروںگا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2650]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1840، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1205، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1154، وابن الجارود فى "المنتقى"، 486، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2650، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3948، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5998، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2664، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1840، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1834، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2934، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9224، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2673، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24012»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2650 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2650
فوائد:
◈ علماء کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ محرم سر دھو سکتا ہے اور غسل جنابت کر سکتا ہے، بلکہ غسل جنابت تو واجب ہے۔
البتہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کرنا جمہور علماء اسے بلا کراہت جائز قرار دیتے ہیں۔ [شرح النووي: 126/8]
◈ علماء کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ محرم سر دھو سکتا ہے اور غسل جنابت کر سکتا ہے، بلکہ غسل جنابت تو واجب ہے۔
البتہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کرنا جمہور علماء اسے بلا کراہت جائز قرار دیتے ہیں۔ [شرح النووي: 126/8]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2650]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2650 in Urdu
عبد الله بن حنين القرشي ← أبو أيوب الأنصاري