صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1871. (130) باب ذكر الخبر المفسر للفظة المجملة التى ذكرتها فى بعض ما أبيح قتله للمحرم،
گزشتہ مجمل روایات جن میں محرم کے لئے بعض جانوروں کا قتل کرنے کی اجازت کا بیان ہے۔ اس روایت کی تفصیل بیان کرنے والی روایت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2669
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَبَاحَ لِلْمُحْرِمِ قَتْلَ بَعْضِ الْغِرْبَانِ لَا كُلِّهَا، وَإِنَّهُ إِنَّمَا أَبَاحَ قَتْلَ الْأَبْقَعِ مِنْهَا دُونَ مَا سِوَاهُ مِنَ الْغِرْبَانِ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض کوّے مارنے کا حُکم دیا ہے۔ سب کوّوَں کو مارنے کا حُکم نہیں دیا [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2669]
حدیث نمبر: 2669
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ، وَالْغُرَابُ الأَبْقَعُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْحِدْأَةُ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”پانچ شریر جانور ہیں انہیں حل (حرم سے باہر) اور حرم دونوں جگہوں پر قتل کردیا جائے، سانپ، چتکبرا کوا، چوہیا، کاٹنے والا کتّا اور چیل۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2669]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1829، 3314، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1198، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1304، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2669، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5632، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2829، والترمذي فى (جامعه) برقم: 837، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3087، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10146، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2475، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24686»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2669 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2669
فوائد:
➊ حرم میں اور حالتِ احرام میں چھ فاسق چیزوں کو قتل کرنا جائز ہے اور ان کے قتل کرنے پر محرم پر کوئی جرمانہ یا فدیہ واجب نہیں ہوتا۔
1 سانپ 2 بچھو 3 چیل 4 چوہا 5 کوا 6 باؤلا کتا۔
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”جمہور علماء کا حل و حرم اور حالتِ احرام میں ان فاسق چیزوں کے قتل کے جواز پر اتفاق ہے اور ان کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ ان جیسے دیگر موذی جانوروں کو قتل کرنا بھی جائز ہے۔
پھر علماء کا ان فواسق کے ہم مثل جانوروں کی تعیین میں اختلاف ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر غیر ماکول اللحم جانور اور غیر ماکول اللحم سے پیدا ہونے والے جانوروں کو قتل کرنا جائز ہے اور ایسے جانوروں کے قتل کرنے پر محرم پر کوئی فدیہ نہیں۔
اور امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ فواسق جانوروں سے مراد موذی جانور ہیں اور ہر موذی جانور کا قتل محرم کے لیے جائز ہے۔
پھر ’کلب عقور‘ کی مراد میں علماء کا اختلاف ہے، بعض علماء کا قول یہ ہے کہ ’کلب عقور‘ سے مراد باؤلا کتا ہے اور بعض علماء کا قول ہے کہ اس سے مراد ہر پھاڑنے والا درندہ ہے کیونکہ لغتِ عرب میں وحشی درندے کو ’کلب عقور‘ کہا جاتا ہے۔“ [شرح النووي: 114/8]
➊ حرم میں اور حالتِ احرام میں چھ فاسق چیزوں کو قتل کرنا جائز ہے اور ان کے قتل کرنے پر محرم پر کوئی جرمانہ یا فدیہ واجب نہیں ہوتا۔
1 سانپ 2 بچھو 3 چیل 4 چوہا 5 کوا 6 باؤلا کتا۔
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”جمہور علماء کا حل و حرم اور حالتِ احرام میں ان فاسق چیزوں کے قتل کے جواز پر اتفاق ہے اور ان کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ ان جیسے دیگر موذی جانوروں کو قتل کرنا بھی جائز ہے۔
پھر علماء کا ان فواسق کے ہم مثل جانوروں کی تعیین میں اختلاف ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر غیر ماکول اللحم جانور اور غیر ماکول اللحم سے پیدا ہونے والے جانوروں کو قتل کرنا جائز ہے اور ایسے جانوروں کے قتل کرنے پر محرم پر کوئی فدیہ نہیں۔
اور امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ فواسق جانوروں سے مراد موذی جانور ہیں اور ہر موذی جانور کا قتل محرم کے لیے جائز ہے۔
پھر ’کلب عقور‘ کی مراد میں علماء کا اختلاف ہے، بعض علماء کا قول یہ ہے کہ ’کلب عقور‘ سے مراد باؤلا کتا ہے اور بعض علماء کا قول ہے کہ اس سے مراد ہر پھاڑنے والا درندہ ہے کیونکہ لغتِ عرب میں وحشی درندے کو ’کلب عقور‘ کہا جاتا ہے۔“ [شرح النووي: 114/8]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2669]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2669 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق