صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1889. (148) باب إباحة أبدال المحرم ثيابه فى الإحرام، والرخصة فى لبس الممشق من الثياب وإن كان الممشق مصبوغا غير أنه مصبوغ بالطين
محرم حالت احرام میں اپنی چادریں تبدیل کرسکتا ہے اور اسے رنگین کپڑا پہننے کی رخصت ہے بشرطیکہ اسے گیرو سے رنگا گیا ہو
حدیث نمبر: 2689
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " كُنَّا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَهْلَلْنَا مَا لَمْ نُهِلَّ فِيهِ، وَنَلْبَسُ الْمُمَشَّقَ إِنَّمَا هُوَ طِينٌ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب احرام باندھتے تو پھر ایسے کپڑے (بدل بدل کر) پہنتے رہتے تھے جن میں ہم نے احرام نہیں باندھا ہوتا تھا (ابتدائے احرام میں وہ نہیں پہنے تھے) اور ہم گیرو سے رنگے ہوئے تین کپڑے بھی پہن لیتے تھے۔ امام صاحب اپنے استاد محمد بن معمر کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ جب احرام باندھتے تو ایسے کپڑے پہنتے جنہیں خوشبو اور زعفران نہیں لگا ہوتا تھا۔ اور ہم گیرو سے رنگے ہوئے کپڑے پہن لیتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2689، 4/355، بدون ترقيم، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9164»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2689 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري