صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1888. (147) باب إباحة استظلال المحرم وإن كان راكبا غير نازل
محرم سایہ حاصل کر سکتا ہے اگرچہ وہ سواری پر سوار ہو اور نیچے اترا ہوا نہ ہو
حدیث نمبر: 2688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ الأَحْمَسِيِّ ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ جَدَّتِهِ، قَالَتْ:" حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَبِلالا يَقُودُ أَحَدُهُمَا بِخِطَامِ رَاحِلَتِهِ، وَالآخَرُ رَافِعًا ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ"
سیدہ اُم الحصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج وداع کیا تو میں نے سیدنا اسامہ اور بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا۔ ان دونوں میں سے ایک رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھا اور اسے ہانک رہا تھا جب کہ دوسرا آپ کو گرمی کی تپش سے بچانے کے لئے آپ پر کپڑے سے سایہ کیے ہوا تھا حتّیٰ کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار لیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
يحيى بن الحصين البجلي ← أم الحصين بنت إسحاق الأحمسية