صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1896. (155) باب استحباب تجديد الوضوء عند إرادة المرء الطواف بالبيت عند مقدمه مكة
مکّہ مکرّمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف شروع کرنے سے پہلے نیا وضو کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2699
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ , قَالَ لَهُ: سَلْ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ" ، فَذَكَرَ حَدِيثًا فِيهِ بَعْضُ الطَّوْلِ
جناب محمد بن عبد الرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک عراقی شخص نے اُن سے کہا کہ حضرت عروہ بن زبیر سے سوال کرو کہ حج کا احرام باندھنے والا شخص کیا کرے۔ تو میں نے اُن سے یہ سوال کیا۔ اُنہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا ہے، مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ نے مکّہ مکرّمہ پہنچنے پر سب سے پہلے وضو کیا پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر کچھ طویل حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2699]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1614، 1641، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1235، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2699، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3808، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9336، 9392»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2699 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2699
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ طواف کے لیے وضو کرنا ثابت ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا: ”مجھ سے حج کا طریقہ سیکھ لو۔“
➋ پھر امت کا اجماع ہے کہ طواف کے لیے وضو کرنا مشروع ہے، لیکن علماء کا اختلاف ہے کہ یہ وضو واجب، صحتِ طواف کی شرط ہے یا نہیں؟
◈ امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے کہ وضو صحتِ طواف کے لیے شرط ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ وضو مستحب ہے، شرط نہیں۔
➌ نیز جمہور نے حدیث الباب سے دلیل لی ہے۔ [شرح النووي: 220/8]
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ طواف کے لیے وضو کرنا ثابت ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا: ”مجھ سے حج کا طریقہ سیکھ لو۔“
➋ پھر امت کا اجماع ہے کہ طواف کے لیے وضو کرنا مشروع ہے، لیکن علماء کا اختلاف ہے کہ یہ وضو واجب، صحتِ طواف کی شرط ہے یا نہیں؟
◈ امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے کہ وضو صحتِ طواف کے لیے شرط ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ وضو مستحب ہے، شرط نہیں۔
➌ نیز جمہور نے حدیث الباب سے دلیل لی ہے۔ [شرح النووي: 220/8]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2699]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2699 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق