صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1947. (206) باب ذكر الدليل [على] أن الله- عز وجل- إنما أعلم أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم أنه لا جناح عليهم فى الطواف بين الصفا والمروة
اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو بتا دیا ہے کہ صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے میں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے
حدیث نمبر: 2767
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ، وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي أَيَّامِهِمْ مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنَّهُمْ حِينَ أَسْلَمُوا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: هِيَ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مَنْ كَانَ يُهِلُّ لِمَنَاةَ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ مِنَ الطَّوَافِ بَيْنَهُمَا، لا أَنَّهُمُ كَانُوا يَطُوفُونَ بَيْنَهُمَا كَخَبَرِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ رِوَايَةِ يُونُسَ، وَمُتَابَعَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِيَّاهُ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى سَأُخَرَّجُ خَبَرَ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِي هَذَا الْبَابَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَخَبَرُ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، دَالٌ أَيْضًا أَنَّ الأَنْصَارَ كَانُوا هُمُ الَّذِينَ يَتَحَرَّجُونَ مِنَ الطَّوَافِ بَيْنَهُمَا قَبْلَ نُزُولِ هَذِهِ الآيَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انصاری لوگ اور غسان قبیلے کے افراد اسلام لانے سے پہلے مناة بت کے نام کا احرام باندھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسوس کیا۔ اور یہ ان کے دور کا دستور بھی تھا کہ جوشخص مناف کے نام کا احرام باندھتا تھا وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتا تھا۔ اور جب وہ مسلمان ہو گئے تو اُنہوں نے رسول اللہ سے پوچھا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 108] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ حضرت عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ سنّت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رائج اور جاری کیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ صحیح بات وہی ہے جسے امام یونس نے امام زہری سے روایت کیا ہے کہ جو لوگ مناة بت کے نام کا احرام باندھتے تھے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، یہ نہیں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ امام ابن عینیہ کی روایت میں ہے کہ جناب یونس کی روایت کے درست ہونے کی دلیل جناب ہشام بن عروہ کی اس معنی میں روایت ہے جس میں انہوں نے یونس کی متابعت کی ہے۔ ہشام بن عروہ کی روایت میں اگلے باب میں بیان کروںگا، ان شاء اللہ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے انصار ہی تھے جو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2767]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1643، 1790، 4495، 4861، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1277، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1381، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2766، 2767، 2769، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3839، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3087، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2967، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1901، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2965، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2986، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9452، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25752، والحميدي فى (مسنده) برقم: 221»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2767 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق