صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1972. (231) باب ذكر العلة التى سميت لها عرفة
عرفہ کی وجہ تسمیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2804
عَرَفَةَ مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَرَى النَّبِيَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَنَاسِكَ كَمَا أَرَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ.
اور اس دلیل کا بیان کہ جبرائیل عليه السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مناسک حج سکھائے اور مقامات حج دکھائے ہیں جیسے ابراہیم عليه السلام کو دکھائے تھے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2804]
حدیث نمبر: 2804
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ إِبْرَاهِيمَ يُرِيهِ الْمَنَاسِكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ:" ثُمَّ دَفَعَ بِهِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، فَقَالَ لَهُ: أَعْرِفِ الآنَ، وَأَرَاهُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، وَفَعَلَ ذَلِكَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل عليه السلام، حضرت ابراہیم عليه السلام کو مناسک حج سکھانے کے لئے آئے۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ پھر وہ حضرت ابراہیم عليه السلام کو لیکر منیٰ گئے حتّیٰ کہ جب اُنہوں نے جمرے کو رمی کرلی تو اُن سے فرمایا کہ اب ان مناسک کو اچھی طرح پہچان لیں۔ اور حضرت ابراہیم عليه السلام کو تمام مناسک دکھائے۔ اسی طرح اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام مناسک دکھائے اور سکھائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2803، 2804، 2842، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9743، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 14337»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2804 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2804
فوائد:
➊ عرفہ کو عرفہ کیوں کہا جاتا ہے، اس حدیث میں یہ علت بیان ہوئی ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میدان میں مناسک حج کی تعلیم دی تھی۔
➋ اس مناسبت سے اس میدان کا نام عرفات پڑ گیا۔
➊ عرفہ کو عرفہ کیوں کہا جاتا ہے، اس حدیث میں یہ علت بیان ہوئی ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میدان میں مناسک حج کی تعلیم دی تھی۔
➋ اس مناسبت سے اس میدان کا نام عرفات پڑ گیا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2804]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2804 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي