صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1979. (238) باب الجمع بين الظهر والعصر بعرفة، والأذان والإقامة لهما.
میدان عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرکے پڑھنے کابیان
حدیث نمبر: 2811
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِعَرَفَاتٍ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ جمع کرکے ادا کیں۔ اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2811]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2811 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2811
فوائد:
➊ عرفات میں موجود تمام حجاج کرام کا ظہر و عصر کی نمازیں جمع کرنا جائز ہے، خواہ مکہ کے رہائشی ہوں یا غیر مکہ کے۔
◈ ابن منذر کہتے ہیں: اہل علم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ میدان عرفات میں امام اور مقتدی ظہر و عصر کی نمازیں جمع کریں گے۔ [المغنی لابن قدامه: 424/3]
➋ ◈ اسود اور علقمہ بیان کرتے ہیں کہ عرفہ میں امام کی اقتداء میں ظہر و عصر کو ایک ساتھ پڑھنا تکمیلِ حج کی قبیل سے ہے۔ [فقه السنه: 642/1]
➊ عرفات میں موجود تمام حجاج کرام کا ظہر و عصر کی نمازیں جمع کرنا جائز ہے، خواہ مکہ کے رہائشی ہوں یا غیر مکہ کے۔
◈ ابن منذر کہتے ہیں: اہل علم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ میدان عرفات میں امام اور مقتدی ظہر و عصر کی نمازیں جمع کریں گے۔ [المغنی لابن قدامه: 424/3]
➋ ◈ اسود اور علقمہ بیان کرتے ہیں کہ عرفہ میں امام کی اقتداء میں ظہر و عصر کو ایک ساتھ پڑھنا تکمیلِ حج کی قبیل سے ہے۔ [فقه السنه: 642/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2811]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2811 in Urdu
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري