صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1980. (239) باب ترك التنفل بين الظهر والعصر إذا جمع بينهما بعرفة، ووقت الرواح إلى الموقف.
میدان عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کرتے وقت ان کے درمیان نفل نماز ترک کردینے کا بیان اور موقف میں جانے کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: " فَخَطَبَ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلالٌ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، لَمْ يُصَلَّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ"
جناب جعفر بن محمد اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا، ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے (حجة الوداع کی) تفصیلی روایت بیان کی۔ اُنھوں نے فرمایا، پھر نبی کریم نے خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان پڑھی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اُنھوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، آپ نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ پھر آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوکر موقف (کھڑے ہوکر دعائیں مانگنے کے مقام) پر تشریف لائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2812]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
الرواة الحديث:
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري