صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2088. (347) باب ذكر من قدم نسكا قبل نسك جاهلا
جو شخص لا علمی میں حج کے مناسک آگے پیچھے کرلے
حدیث نمبر: Q2949
بِذِكْرِ خَبَرٍ مُخْتَصَرٍ غَيْرِ مُتَقَصٍّ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ لَا فِدْيَةَ لَهُ.
اس بارے میں حدیث مختصر ذکر کی گئی ہے تفصیلی نہیں اور اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ حج کے اعمال آگے پیچھے کرنے والے پر کوئی فدیہ نہیں ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2949]
حدیث نمبر: 2949
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ:" اذْبَحْ، وَلا حَرَجَ"، قَالَ: وَذَبَحَتْ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ وَلا حَرَجَ" ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ أَيْضًا: ثُمَّ سَأَلَهُ آخَرُ، فَقَالَ: نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یوم النحر کو ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُس نے عرض کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر کے بال منڈوا لیے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کرلو کوئی حرج نہیں ہے“ ایک اور شخص نے عرض کیا کہ میں نے رمی کر نے سے پہلے قربانی کرلی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں اب رمی کرلو“ جناب مخزوی کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو عرض کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا ہے۔ اور یہ الفاظ بھی بیان کیے کہ پھر ایک اور شخص نے آپ سے سوال کیا تو کہنے لگا، میں نے رمی کرنے سے پہلے اونٹ نحر کرلیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2949]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 83، 124، 1736، 1737، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1306، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2949، 2951، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3877، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2014، والترمذي فى (جامعه) برقم: 916، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3051، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9713، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2566، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6595»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2949 in Urdu
عيسى بن طلحة القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي