الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2088. (347) باب ذكر من قدم نسكا قبل نسك جاهلا
جو شخص لا علمی میں حج کے مناسک آگے پیچھے کرلے
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، وَالصَّنْعَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى، فَيَقُولُ:" لا حَرَجَ، لا حَرَجَ"، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ:" لا حَرَجَ"، وَقَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ، قَالَ:" لا حَرَجَ" . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، بِمِثْلِهِ، وَقَالَ:" اذْبَحْ وَلا حَرَجَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قربانی والے دن منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ سوال پوچھتے تو آپ فرماتے: ”کوئی حرج نہیں (ترتیب میں غلطی پر) کوئی حرج نہیں۔“ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا تو عرض کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“ اور ایک شخص نے کہا کہ میں نے شام کے بعد کنکریاں ماری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ جناب یزید بن زریع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”اب ذبح کرلو اور کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2950]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
نصر بن علي الأزدي ← يزيد بن زريع العيشي