صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2091. (350) باب الرخصة فى الجماع يوم النحر بعد الزيارة.
قربانی والے دن طواف زیارہ کے بعد حاجی کو جماع کرنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 2954
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، فَقِيلَ: إِنَّهَا حَائِضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ"، فَقَالُوا: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، فَنَفَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کیا پھر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے اپنی مردانه خواہش پوری کرنے کا ارداہ کیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ تو حائضہ ہوچکی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ ہمیں روانگی سے روک دیگی؟ “ آپ کو بتایا گیا کہ وہ طواف افاضہ کرچکی ہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں ساتھ لیکر (مدینہ منوّرہ) روانہ ہو گئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2954]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، 317، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1204، وابن الجارود فى "المنتقى"، 463، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، 2605، 2607، 2784، 2788، 2789، 2790، 2904، 2905، 2936، 2948، 2954، 2998، 3002، 3028، 3029، 3076، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 242، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2954 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2954
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد بیویوں سے مباشرت جائز ہے اور طوافِ زیارت کے بعد حاجی کے لیے تمام ممنوع افعال حلال ہو جاتے ہیں۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد بیویوں سے مباشرت جائز ہے اور طوافِ زیارت کے بعد حاجی کے لیے تمام ممنوع افعال حلال ہو جاتے ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2954]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2954 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق