صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2106. (365) باب الوقوف عند الجمرة الأولى والثانية بعد رميها
پہلے اور دوسرے جمرے پر کنکری مار کر ٹھہرنا چاہیے
حدیث نمبر: Q2972
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْوُقُوفَ بَعْدَ رَمْيِ الْأُولَى مِنْهَا أَمَامَهَا لَا خَلْفَهَا، وَلَا عَنْ يَمِينِهَا، وَلَا عَنْ شِمَالِهَا، وَالْوُقُوفِ عِنْدَ الثَّانِيَةِ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فِي الْوَقْفَيْنِ جَمِيعًا، وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الْوَقْفَيْنِ جَمِيعًا.
اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ پہلے جمرے کو کنکری مار کر اس کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے۔ اس کے پیچھے یا اس کے دائیں بائیں نہیں کھڑا ہونا چاہیے اور دوسرے جمرے پر کنکری مار کر اس کی بائیں جانب وادی کے قریب کھڑے ہونا چاہیے۔ پہلے اور دوسرے جمرے پر کنکری مارنے کے بعد قبلہ رخ ہوکر کھڑا ہونا چاہیے اور دونوں جگہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے چاہئیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2972]
حدیث نمبر: 2972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْبِسْطَامِيُّ , قَالا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي مَسْجِدَ مِنًى يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا، فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلُ الْبَيْتَ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ، فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا" ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ، قَالَ الْبِسْطَامِيُّ: قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَقَالَ فِي جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ، وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا، وَقَالَ: يُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِيهِ، وَالْبَاقِي مِثْلُ لَفْظِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى سَوَاءً
امام زہری رحمه الله فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد کے قریب والے جمرے کو رمی کرتے تو اُسے سات کنکریاں مارتے ہر کنکری مارتے وقت «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھتے، پھر آپ اُس سے آگے بڑھ کر اُس کے آگے قبلہ رُخ ہوکر کھڑے ہو جاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتے، آپ بڑی دیر تک کھڑے رہتے۔ پھر آپ دوسرے جمرے کے پاس آتے اور «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے ہوئے سات کنکریاں مارتے۔ پھر آپ وادی کے قریب بائیں جانب نیچے اُتر کر قبلہ رُخ کھڑے ہو جاتے، آپ اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعائیں مانگتے۔ پھر آپ عقبہ والے جمرہ پر آتے اور اُسے بھی سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھتے۔ پھر آپ واپس تشریف لے جاتے اور اس کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے۔ امام زہری رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ کوسنا کہ وہ اپنے والد گرامی کے واسطے سے اسی طرح بیان کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح عمل کرتے تھے۔ جناب یونس کی روایت میں ہے جب آپ جمرہ عقبہ کو رمی کرتے تو ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے پھر آپ واپس تشریف لے جاتے اور اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے۔ اور فرمایا کہ حضرت سالم اپنے والد بزرگوار سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں۔ باقی روایت محمد بن یحیٰی کی روایت کی طرح ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2972]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1751، 1752، 1753، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1527، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2972، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3887، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1763، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3083، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3032، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9646، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2684، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6052»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2972 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2972
فوائد:
➊ ایام تشریق میں جمرات کو کنکریاں مارنا مشروع ہے اور رمی کرتے وقت جمرہ اولیٰ کو کنکریاں مارنا اور وہاں لمبا وقوف کرنا اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا مستحب فعل ہے۔
پھر جمرہ وسطیٰ کو رمی کرنا اور وہاں وقوف کرنا اور ہر کنکری پھینکتے وقت اللہ اکبر کہنا مستحب ہے۔
➋ جمرہ عقبہ کو رمی کرتے وقت وہاں وقوف کرنا درست نہیں، بلکہ رمی کے بعد وہاں سے فوراً خروج افضل ہے۔
➊ ایام تشریق میں جمرات کو کنکریاں مارنا مشروع ہے اور رمی کرتے وقت جمرہ اولیٰ کو کنکریاں مارنا اور وہاں لمبا وقوف کرنا اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا مستحب فعل ہے۔
پھر جمرہ وسطیٰ کو رمی کرنا اور وہاں وقوف کرنا اور ہر کنکری پھینکتے وقت اللہ اکبر کہنا مستحب ہے۔
➋ جمرہ عقبہ کو رمی کرتے وقت وہاں وقوف کرنا درست نہیں، بلکہ رمی کے بعد وہاں سے فوراً خروج افضل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2972]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2972 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي