صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2126. (385) بَابُ التَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّهْلِيلِ وَالْمَسْأَلَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ عِنْدَ كُلِّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْكَعْبَةِ
کعبہ شریف کے ہر ہر رکن کے پاس تکبیر، تہلیل، تحمید، دعائیں اور استغفار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3006
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:" ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى أَرْكَانِ الْبَيْتِ يَسْتَقْبِلُ كُلَّ رُكْنٍ مِنْهَا بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّحْمِيدِ، وَسَأَلَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَهُ" ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی اور فرمایا، پھر آپ بیت الله شریف کے ہر ہر کونے میں تشریف لائے آپ ہر رکن کی طرف مُنہ کرکے «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله، سُبْحَانَ اللَٰه، الحَمْدُ لِلَٰه» پڑھتے، اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور دعائیں مانگتے۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3006]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1330، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 432، 3003، 3004، 3005، 3006، 3015، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3208، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1769، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2909، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2264، 3860، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22168»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 3006 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 3006
فوائد:
➊ طوافِ وداع کرنے والے کا ملتزم (رکن اور بابِ کعبہ کے درمیان) میں کھڑا ہونا اور دیوارِ کعبہ سے چہرہ اور سینہ لگا کر اللہ عزوجل سے دعا کرنا مستحب ہے۔ [المغنی: 493/3]
➋ ارکانِ کعبہ میں سے ہر رکن کے قریب تکبیر و تہلیل، تسبیح و تحمید اور استغفار کرنا مشروع ہے۔
➊ طوافِ وداع کرنے والے کا ملتزم (رکن اور بابِ کعبہ کے درمیان) میں کھڑا ہونا اور دیوارِ کعبہ سے چہرہ اور سینہ لگا کر اللہ عزوجل سے دعا کرنا مستحب ہے۔ [المغنی: 493/3]
➋ ارکانِ کعبہ میں سے ہر رکن کے قریب تکبیر و تہلیل، تسبیح و تحمید اور استغفار کرنا مشروع ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 3006]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 3006 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي