صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2153. (412) باب النذر بالحج ماشيا، فيعجز الناذر عن المشي بذكر خبر مختصر غير متقصى
اگر کسی نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی پھر وہ چلنے سے عاجز آگیا،تھک ہار گیا تو وہ کیا کرے ہے۔ اس سلسلے میں ایک مختصر غیر مفسل روایت کا بیان
حدیث نمبر: 3043
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ شَيْخًا كَبِيرًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ يَتَوَكَّأُ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا شَأْنُ هَذَا الشَّيْخِ؟" فَقَالَ ابْنَاهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ، فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكَ، وَعَنْ نَذْرِكَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کو اس حال میں دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان اُن کا سہارا لیکر گھسٹ کر چلا آ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس بوڑھے شخص کو کیا ہوا ہے؟“ اُس کے دونوں بیٹوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، بابا جی نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہوئی ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بڑے میاں؟ سوار ہو جا، بیشک الله تعالیٰ تم سے اور تمھاری ایسی نذر سے بے پرواہ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3043]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1643، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3043، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2381، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2135، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20169، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8981، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6354، والبزار فى (مسنده) برقم: 8842»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 3043 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 3043
فوائد:
➊ ایسی نذرِ معصیت اور ایسی نذر ماننا جس میں بے پناہ جانی مشقت و تکلیف ہو، ناجائز ہے اور ایسی نذر کو ختم کر کے اس کا کفارہ ادا کرنا جائز ہے۔
➋ کعبہ کی طرف سواری کی دستیابی کے باوجود تکلفاً پیدل چلنا اور جوتوں کی دستیابی کے باوجود عمدہ جوتے اتار کر بیت اللہ کا سفر کرنا ناجائز و ممنوع ہے۔
اس سے ثواب کی بجائے گناہ ہوتا ہے۔
ایسے اشخاص کو ایسی نذریں توڑ کر سفر کی سہولتیں حاصل کرنی چاہئیں اور اپنی نذر کا کفارہ ادا کرنا چاہیے۔
➊ ایسی نذرِ معصیت اور ایسی نذر ماننا جس میں بے پناہ جانی مشقت و تکلیف ہو، ناجائز ہے اور ایسی نذر کو ختم کر کے اس کا کفارہ ادا کرنا جائز ہے۔
➋ کعبہ کی طرف سواری کی دستیابی کے باوجود تکلفاً پیدل چلنا اور جوتوں کی دستیابی کے باوجود عمدہ جوتے اتار کر بیت اللہ کا سفر کرنا ناجائز و ممنوع ہے۔
اس سے ثواب کی بجائے گناہ ہوتا ہے۔
ایسے اشخاص کو ایسی نذریں توڑ کر سفر کی سہولتیں حاصل کرنی چاہئیں اور اپنی نذر کا کفارہ ادا کرنا چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 3043]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 3043 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي