صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
275. (42) باب التثويب فى أذان الصبح
صبح کی اذان میں تثویب (الصلاۃ خیرمن النوم کہنے) کا بیان
حدیث نمبر: 386
نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " مِنَ السَّنَةِ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ: حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَالَ: الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ سنّت ہے کہ جب موذن فجر کی اذان میں «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کہہ لے تو کہے کہ « اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم» ” نماز نیند سے بہتر ہے“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 386]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 386، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2589، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2016، والدارقطني فى (سننه) برقم: 944، 945، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 843، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 6083»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل عوف بن أبي جميلة الأعرابي ← محمد بن سيرين الأنصاري | صدوق رمي بالقدر والتشيع | |
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة حماد بن أسامة القرشي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن عثمان العجلي، أبو عبد الله، أبو جعفر محمد بن عثمان العجلي ← حماد بن أسامة القرشي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 386 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 386
فوائد:
➊ صبح کی اذان میں «حی علی الفلاح» کہنے کے بعد دو مرتبہ «الصلاة خیر من النوم» کہنا مسنون فعل ہے اور اسے تثویب سے موسوم کیا جاتا ہے۔
◈ ابن عمر رضی اللہ عنہما، حسن بصری، ابن سیرین، زہری، مالک، ثوری، اوزاعی، اسحاق، ابوثور اور شافعی رحمہم اللہ بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔ [المغنی: 210/2]
➋ «الصلاة خیر من النوم» کے الفاظ فقط اذانِ فجر میں مسنون ہیں، اس کے سوا کسی اذان میں یہ کلمات مشروع نہیں ہیں، لہٰذا صحت سے ثابت فعل پر اکتفا کافی ہے۔
➊ صبح کی اذان میں «حی علی الفلاح» کہنے کے بعد دو مرتبہ «الصلاة خیر من النوم» کہنا مسنون فعل ہے اور اسے تثویب سے موسوم کیا جاتا ہے۔
◈ ابن عمر رضی اللہ عنہما، حسن بصری، ابن سیرین، زہری، مالک، ثوری، اوزاعی، اسحاق، ابوثور اور شافعی رحمہم اللہ بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔ [المغنی: 210/2]
➋ «الصلاة خیر من النوم» کے الفاظ فقط اذانِ فجر میں مسنون ہیں، اس کے سوا کسی اذان میں یہ کلمات مشروع نہیں ہیں، لہٰذا صحت سے ثابت فعل پر اکتفا کافی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 386]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 386 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري