صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
311. (78) بَابُ الْبَدْءِ بِرَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ.
نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہنے پہلے رفع الیدین سے ابتداء کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 456
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلصَّلاةِ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا بِحَذْوِ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلا يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک بلند کرتے پھر «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے۔ پھر جب رُکوع کرنے کاارادہ فرماتے تو اسی طرح (رفع الیدین) کرتے، پھرجب رُکوع سے سراُٹھاتے تو اسی طرح (رفع الیدین) کرتے۔ اور جب سجدوں سے اپنا سر مبارک اُٹھاتے تو رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 456]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 735، 736، 738، 739، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 390، ومالك فى (الموطأ) برقم: 245، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 456، 583، 693، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1861، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 875، وأبو داود فى (سننه) برقم: 721، والترمذي فى (جامعه) برقم: 255، 256، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 858، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2338، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1110، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4628»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 456 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 456
فوائد:
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات پڑھ کر اٹھتے وقت بھی رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
جیسا کہ صحیح بخاری [رقم: 736] میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مبارک عمل کا ترک و نسخ ثابت نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ الباری صحیح بخاری میں دو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی احادیث لائے ہیں؛ ایک سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ جو اوائلِ مدینہ سے آخر عمر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور دوسرے صحابی سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخر عمر میں مسلمان ہوئے۔
اور یہ دونوں صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت مبارکہ کے ناقل ہیں۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل مبارک ساری زندگی کیا۔
اسی طرح عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خود ساری زندگی عاملِ رفع الیدین رہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ان کے مولیٰ نافع، جو کہ 83ھ میں مسلمان ہوئے [تاریخ اسلام للذہبي: 12/3] ان سے بیان کرتے ہیں۔
اسی طرح اس عمل کا دوام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر احادیثِ صحیحہ سے بھی ثابت ہے جیسا کہ [السنن الکبرى للبيهقي: 72/2] سے ہے۔
یہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اور [شرح ابن عباس: 21421] میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے [سنن دارقطنی: 292/1] میں مروی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات پڑھ کر اٹھتے وقت بھی رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
جیسا کہ صحیح بخاری [رقم: 736] میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مبارک عمل کا ترک و نسخ ثابت نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ الباری صحیح بخاری میں دو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی احادیث لائے ہیں؛ ایک سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ جو اوائلِ مدینہ سے آخر عمر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور دوسرے صحابی سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخر عمر میں مسلمان ہوئے۔
اور یہ دونوں صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت مبارکہ کے ناقل ہیں۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل مبارک ساری زندگی کیا۔
اسی طرح عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خود ساری زندگی عاملِ رفع الیدین رہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ان کے مولیٰ نافع، جو کہ 83ھ میں مسلمان ہوئے [تاریخ اسلام للذہبي: 12/3] ان سے بیان کرتے ہیں۔
اسی طرح اس عمل کا دوام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر احادیثِ صحیحہ سے بھی ثابت ہے جیسا کہ [السنن الکبرى للبيهقي: 72/2] سے ہے۔
یہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اور [شرح ابن عباس: 21421] میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے [سنن دارقطنی: 292/1] میں مروی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 456]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 456 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي