صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. (37) باب التباعد للغائط فى الصحاري عن الناس
قضائے حاجت کے لیے لوگوں سے دور صحراؤں میں جانا چاہیے
حدیث نمبر: 51
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، قَالَ بُنْدَارٌ: قُلْتُ لِيَحْيَى: مَا اسْمُهُ؟ فَقَالَ: عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ مِنَ الْخَلاءِ، وَكَانَ إِذَا أَرَادَ حَاجَةً أَبْعَدَ"
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابو قراد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) نکلا، (ایک دفعہ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے (حا جت پوری کرنےکےبعد) نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائےحاجت کا ارادہ کرتے تھے تو (لوگوں سے) دور تشریف لے جاتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 51]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: صحيح ابي داوٗد: 11، سنن النسائى: كتاب الطهارة باب الابعاد عند ارادة الحاجة، رقم: 16، وفي الكبرىٰ: رقم: 17، سنن ابن ماجه: 334، مسند احمد: 443/3، 237، 224، وعبد الله بن أحمد فى زيادته على المسند: 224/4»
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
16
| إذا أراد الحاجة أبعد |
سنن ابن ماجه |
334
| ذهب لحاجته فأبعد |
صحيح ابن خزيمة |
51
| إذا أراد حاجة أبعد |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 51 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 51
فوائد:
ان احادیث میں قضائے حاجت کے آداب کا بیان ہے کہ کھلی جگہ میں قضائے حاجت کے وقت اتنا دور جانا چاہے کہ انسان لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔ یا اگر نشیبی جگہیں ہیں، جہاں کوئی آڑ موجود ہو تو ان جگہوں میں قضائے حاجت کرنا بھی درست ہے، خواہ وہ آبادی کے قریب ہی ہوں، اسی طرح بیت الخلاء، یا کپڑے وغیرہ سے پردہ کر کے قضائے حاجت کرنا بھی درست ہے۔ قضائے حاجت میں مطلوب ستر ڈھانپنا ہے، وہ جیسے اور جہاں حاصل ہو جائے قضائے حاجت کرنا جائز و درست ہے۔
ان احادیث میں قضائے حاجت کے آداب کا بیان ہے کہ کھلی جگہ میں قضائے حاجت کے وقت اتنا دور جانا چاہے کہ انسان لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔ یا اگر نشیبی جگہیں ہیں، جہاں کوئی آڑ موجود ہو تو ان جگہوں میں قضائے حاجت کرنا بھی درست ہے، خواہ وہ آبادی کے قریب ہی ہوں، اسی طرح بیت الخلاء، یا کپڑے وغیرہ سے پردہ کر کے قضائے حاجت کرنا بھی درست ہے۔ قضائے حاجت میں مطلوب ستر ڈھانپنا ہے، وہ جیسے اور جہاں حاصل ہو جائے قضائے حاجت کرنا جائز و درست ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 51]
الحارث بن فضيل الخطمي ← عبد الرحمن بن أبي قراد الأنصاري