🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
346. ‏(‏113‏)‏ باب القراءة فى صلاة العشاء الآخرة‏.‏
نماز عشاء میں قرأت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 521
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، سَمِعْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ، فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَرَجَعَ مُعَاذٌ يَؤُمُّهُمْ، فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ انْحَرَفَ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى وَحْدَهُ، فَقَالُوا: أَنَافَقْتَ؟ قَالَ: لا، قَالَ: وَلآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلأُخْبِرَنَّهُ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا، وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الصَّلاةَ الْبَارِحَةَ، فَجَاءَ، فَأَمَّنَا فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَإِنِّي تَأَخَّرْتُ عَنْهُ فَصَلَّيْتُ وَحْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، وَإِنَّمَا نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ سُورَةَ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ فِي كِتَابِ الإِمَامَةِ
جناب عمرو بن دینار اور ابو زبیر روایت کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، (دونوں راویوں میں سے ایک اپنے ساتھی سے زیادہ الفاظ روایت کرتا ہے) سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عشاء) کی نماز پڑھا کرتے تھے پھر واپس جا کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے۔ اور ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تاخیر سے پڑھائی تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے واپس جاکر اُنہیں نماز کی امامت کروائی تو «‏‏‏‏سورة البقرة» ‏‏‏‏ پڑھی۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے جب آپ کو «‏‏‏‏سورة البقرة» ‏‏‏‏ پڑھتے دیکھا تو اُس نے مسجد کے ایک کونے میں الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگوں نے اُس سے کہا، کیا تو منافق ہوگیا؟ اُس نے کہا کہ نہیں۔ اُس نے کہا کہ میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اس واقعہ کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوں گا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عشاء کی) نماز پڑھتے ہیں پھر واپس جا کر ہمیں نماز پڑھاتے ہیں، کل رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز دیر سے پڑھائی تو (وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد) آئے اور ہمیں نماز پڑھائی تو اس میں «‏‏‏‏سورة البقرة» ‏‏‏‏ پڑھی۔ اے اللہ کے رسول، میں نے ان سے پیچھے ہٹ کر اکیلے نماز پڑھ لی اور بیشک ہم ہاتھوں سے محنت مزدوری کرتے ہیں (اس لئے رات کو طویل قیام نہیں کرسکتے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ، کیا تو فتنہ باز ہے؟ سورہ «‏‏‏‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» ‏‏‏‏ [ سورة الليل ] اور «‏‏‏‏سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» ‏‏‏‏ [ سورة الأعلى ] اور «‏‏‏‏وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ» ‏‏‏‏ [ سورة البروج ] پڑھا کرو۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کے دیگر طرق كتاب الامامة میں بیان کیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 700، 701، 705، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 465، وابن الجارود فى "المنتقى"، 357، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 521، 1611، 1633، 1634، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1524، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 830، وأبو داود فى (سننه) برقم: 599، والترمذي فى (جامعه) برقم: 583، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1333، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 836، 986، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4108، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1075، 1076، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14410»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 521 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 521
فوائد:
نمازوں میں مسنون قراءت کی کیفیت یہ ہے کہ فجر و ظہر کی نماز میں طوال مفصل (سورہ الحجرات سے لے کر سورہ البروج تک) سورتوں کی تلاوت کی جائے۔
البتہ نماز فجر میں قراءت نماز ظہر کی نسبت زیادہ لمبی ہو۔
عشاء اور عصر کی نماز میں اوساط مفصل (سورہ الطارق سے لے کر ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة البينة: 1] تک) سورتوں کی تلاوت کی جائے۔
اور نماز مغرب میں قصار مفصل (سورہ الزلزال سے لے کر آخر قرآن تک) سورتوں کی تلاوت کی جائے۔
◈ فجر و ظہر کی تلاوت کو لمبا کرنے میں حکمت یہ ہے کہ چونکہ ان نمازوں کے اوقات میں غفلت ہوتی ہے۔
➊ ایک نماز رات کی نیند کے بعد اور دوسری دوپہر کے قیلولہ کے بعد ہوتی ہے، لہٰذا امام ان نمازوں میں قراءت لمبی کرے تاکہ غفلت کا شکار متاخرین بھی نماز با جماعت میں شامل ہو سکیں۔
➋ نماز عصر کی یہ کیفیت نہیں ہوتی، بلکہ یہ تھکاوٹ اور سستی کا وقت ہوتا ہے، لہٰذا اس میں مختصر تلاوت کی جائے۔
➌ نماز مغرب کا وقت انتہائی قلیل ہوتا ہے، لہٰذا اس میں مزید تخفیف کی ضرورت ہے۔
نیز مغرب کا وقت روزہ داروں کے کھانے اور مہمانوں کی ضیافت کا وقت ہوتا ہے، لہٰذا اس میں تخفیف از حد لازم ہے۔
➍ نماز عشاء نیند کے غلبے کے وقت میں ہوتی ہے، لیکن اس کا وقت کافی وسیع ہوتا ہے، لہٰذا اس میں نماز عصر جیسی سورتوں کی تلاوت کی جائے۔ [شرح النووي: 173/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 521]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 521 in Urdu