الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
345. (112) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما كان يقرأ بطول الطولين فى الركعتين الأوليين من المغرب لا فى ركعة واحدة.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو طویل سورتوں میں سے ایک طویل تر سورت نماز مغرب کی پہلی دوںوں رکعتوں میں پڑھا کرتے تھے، صرف ایک رکعت میں (پوری سورت) نہیں پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 520
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، أنا الضَّحَّاكُ وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلانٍ، لأَمِيرٍ كَانَ بِ الْمَدِينَةِ، قَالَ سُلَيْمَانُ:" فَصَلَّيْتُ أَنَا وَرَاءَهُ، فَكَانَ يُطِيلُ فِي الأُولَيَيْنِ، وَيُخَفِّفُ الأُخْرَيَيْنِ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الأُولَيَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَفِي الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَفِي الصُّبْحِ بِطُوَلِ الْمُفَصَّلِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الاخْتِلافُ فِي الْقِرَاءَةِ مِنْ جِهَةِ الْمُبَاحِ، جَائِزٌ لِلْمُصَلِّي أَنْ يَقْرَأَ فِي الْمَغْرِبِ وَفِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا الَّتِي يُزَادُ عَلَى فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِيهَا بِمَا أَحَبَّ، وَشَيْئًا مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ، لَيْسَ بِمَحْظُورٍ عَلَيْهِ أَنْ يَقْرَأَ بِمَا شَاءَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ، غَيْرُ أَنَّهُ إِذَا كَانَ إِمَامًا فَالاخْتِيَارُ لَهُ أَنْ يُخَفِّفَ فِي الْقِرَاءَةِ، وَلا يُطَوِّلَ بِالنَّاسِ فِي الْقِرَاءَةِ فَيَفْتِنَهُمْ، كَمَا قَالَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا، وَكَمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَئِمَّةَ أَنْ يُخَفِّفُوا الصَّلاةَ، فَقَالَ:" مَنْ أَمَّ مِنْكُمُ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ" وَسَأُخَرِّجُ هَذِهِ الأَخْبَارَ أَوْ بَعْضَهَا فِي كِتَابِ الإِمَامَةِ، فَإِنَّ ذَلِكَ الْكِتَابَ مَوْضِعُ هَذِهِ الأَخْبَارِ
جناب سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے مدینہ منوّرہ کے فلاں امیر سے زیادہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ (نماز پڑھنے والے) کسی شخص کو نہیں دیکھا۔ جناب سلیمان فرماتے ہیں، تو میں نے بھی اس امیر کے پیچھے نماز پڑھی (وہ اس طرح نماز پڑھتے کہ) (ظہر کی) پہلی دو رکعتوں میں طویل قراءت کرتے اور آخری دو رکعتوں میں کم قراءت کرتے۔ اور عصر کی نماز مختصر پڑھاتے۔ وہ نماز مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں قصار المفصل (چھوٹی) سورتیں پڑھتے اور عشاء کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں اوساط المفصل (درمیانی) سورتیں پڑھتے، اور صبح کی نماز میں طوال المفصل (لمبی) سورتیں پڑھتے۔“ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قراءت کے متعلق یہ اختلاف جائز قسم کے اختلاف سے ہے۔ نمازی کے لیے جائز ہے کہ وہ نماز مغرب اور دیگر تمام نمازوں، جن میں سورہ فاتحہ کے علاوہ مزید قراءت کی جاتی ہے، میں قرآن مجید کی جو سورت اُسے محبوب ہو وہ پڑھ لے، اس کے لئے یہ ممنوع نہیں کی وہ اپنی چاہت کے مطابق قرآن مجید کی کوئی سورت پڑھے۔ سوائے اس حالت کے کہ وہ امام ہو تو پھر بہتر یہ ہے کہ وہ مختصر قراءت کرے اور طویل قراءت کرکے لوگوں کو آزمائش میں نہ ڈالے (کہ نماز باجماعت پڑھنا ترک کر دیں) جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (طویل قراءت کرنے پر) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا، ” کیا تم فتنہ باز بننا چاہتے ہو۔“ اور جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےائمہ کو ہلکی اور مختصر نماز پڑھانے کا حُکم دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص لوگوں کی امامت کروائے تو اُسے تخفیف کرنی چاہیے (مختصر نماز پڑھانی چاہیے۔)“ عنقریب میں ان تمام احادیث یا ان میں سے بعض احادیث كتاب الامامه میں بیان کروں گا کیونکہ ان احادیث کا اصل مقام وہی کتاب ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 520]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
سليمان بن يسار الهلالي ← أبو هريرة الدوسي