صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
345. (112) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما كان يقرأ بطول الطولين فى الركعتين الأوليين من المغرب لا فى ركعة واحدة.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو طویل سورتوں میں سے ایک طویل تر سورت نماز مغرب کی پہلی دوںوں رکعتوں میں پڑھا کرتے تھے، صرف ایک رکعت میں (پوری سورت) نہیں پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 519
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، نا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، نا الزُّهْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاتِ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الدَّوْرَقِيِّ، غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ الْجَبَّارِ لَمْ يَقُلْ: فِي الْمَغْرِبِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی والدہ محترمہ سیدہ اُم الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں «سورة المرسلات» پڑھتے ہوئے سنا۔ یہ دورقی کی روایت کے الفاظ ہیں۔ مگر (امام صاحب کے استاد محترم) عبدالجبار نے یہ الفاظ روایت نہیں کیے کہ ”نماز مغرب میں“ (یہ سورت سنی ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 763، 4429، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 462، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 519، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1832، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 984، وأبو داود فى (سننه) برقم: 810، والترمذي فى (جامعه) برقم: 308، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 831، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4105، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27509»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 519 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 519
فوائد:
➊ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب میں قصارِ مفصل (سورہ زلزال سے لے کر سورہ الناس تک کی سورتوں) کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
➋ لہٰذا نماز مغرب میں قصارِ مفصل سورتوں کی تلاوت مستحب فعل ہے، نیز احادیثِ الباب کی رو سے نماز مغرب میں سورہ طور، سورہ مرسلات اور سورہ اعراف کی کبھی کبھار تلاوت بھی مسنون و جائز ہے۔
➊ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب میں قصارِ مفصل (سورہ زلزال سے لے کر سورہ الناس تک کی سورتوں) کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
➋ لہٰذا نماز مغرب میں قصارِ مفصل سورتوں کی تلاوت مستحب فعل ہے، نیز احادیثِ الباب کی رو سے نماز مغرب میں سورہ طور، سورہ مرسلات اور سورہ اعراف کی کبھی کبھار تلاوت بھی مسنون و جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 519]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 519 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← لبابة بنت الحارث الهلالية