صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. (39) باب استحباب الاستتار عند الغائط
قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 53
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدَ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ:" وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ فِي حَاجَتِهِ هَدَفًا أَوْ حَائِشَ نَخْلٍ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ إِدْرِيسَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِشُعْبَةَ: مَا تَقُولُ فِي مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ؟ قَالَ: ثِقَةٌ، قُلْتُ: فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَكْتُبُ فِي سَبُورُّجَةٍ، قَالَ: سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ الَّذِي كَانَ يَرَى يَعْنِي الْهِلالَ قَبْلَ النَّاسِ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، نَسَبُهُ إِلَى جَدِّهِ هُوَ الَّذِي قَالَ عَنْهُ شُعْبَةُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کرتے وقت ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سے پردہ کرنا پسند کرتے تھے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن ابان کو کہتے ہوئے سنا (وہ کہتے ہیں) میں نے ابن ادریس کو کہتے ہوئے سنا، میں نے شعبہ سے پوچھا کہ آپ مھدی بن میمون کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ (وہ) ثقہ (راوی) ہے۔ میں نےکہا کہ مجھےانہوں نےسلم علوی سے بیان کیا ہے، وہ کہتےہیں کہ میں نےابان بن ابوعیاش کو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تختی پر لکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ مھدی کہتے ہیں کہ سلم علوی وہ ہیں کہ جو لوگوں سے پہلے چاند دیکھ لیا کرتے تھے۔ اما م ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محمد بن ابو یعقوب، محمد بن اللہ بن ابویعقوب ہیں۔ وہ (محمد) اپنے دادا (ابویعقوب) کی طرف منسوب ہیں (یعنی انہیں محمد بن عبداللہ کہنے کی بجائے محمد بن ابو یعقوب کہہ دیا جاتا ہے) شعبہ ان کے (دادا کے) متعلق کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن ابو یعقوب نے روایت بیان کی جو کہ بنی تمیم کے سردار ہیں۔ (یعنی ابو یعقوب) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم: كتاب الحيض: باب يستتر به لقضاء الحاجة، رقم: 342، 2429، سنن ابي داود: 2549، سنن ابن ماجه: 340، سنن الدارمي: 663، 755، و احمد: 204/1، 205، وابن حبان: فى صحيحه: 1141، 1412، وابو يعلى: 157/12»
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
774
| هدف أو حائش نخل |
سنن ابن ماجه |
340
| هدف أو حائش نخل |
سنن الدارمي |
686
| هدف أو حائش نخل |
صحيح ابن خزيمة |
53
| هدفا أو حائش نخل |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 53 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 53
فوائد:
قضائے حاجت کے وقت درختوں یا اونچی جگہ کے پیچھے اس قدر چھپنا یا نشیبی زمین میں اتنا پردہ حاصل کرنا کہ لوگوں کی نظروں سے انسان کا تمام جسم غائب ہو جائے، مستحب عمل اور سنت موکدہ ہے۔
[نووي: 34/4]
قضائے حاجت کے وقت درختوں یا اونچی جگہ کے پیچھے اس قدر چھپنا یا نشیبی زمین میں اتنا پردہ حاصل کرنا کہ لوگوں کی نظروں سے انسان کا تمام جسم غائب ہو جائے، مستحب عمل اور سنت موکدہ ہے۔
[نووي: 34/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 53]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث340
پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان۔
عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کے وقت آڑ کے لیے ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سب سے زیادہ پسندیدہ تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 340]
عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کے وقت آڑ کے لیے ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سب سے زیادہ پسندیدہ تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 340]
اردو حاشہ:
درخت کی آڑ میں قضائے حاجت کرنا درست ہے جب کہ وہ درخت پھل والا نہ ہو۔
کھجور کا پھل ایک خاص موسم میں اتارا جاتا ہے، اس لیے دوسرے موسموں میں اس سے پھل حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
سائے کے لیے بھی کھجور کے باغ سے تو فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
الگ لگے ہوئے درختوں کو اس مقصد کے لیے اہمیت نہیں دی جاتی البتہ چھوٹے قد کے درخت جو پھل لگنے کی عمر کو نہیں پہنچے ہوتے اچھا پردہ فراہم کرتے ہیں۔
درخت کی آڑ میں قضائے حاجت کرنا درست ہے جب کہ وہ درخت پھل والا نہ ہو۔
کھجور کا پھل ایک خاص موسم میں اتارا جاتا ہے، اس لیے دوسرے موسموں میں اس سے پھل حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
سائے کے لیے بھی کھجور کے باغ سے تو فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
الگ لگے ہوئے درختوں کو اس مقصد کے لیے اہمیت نہیں دی جاتی البتہ چھوٹے قد کے درخت جو پھل لگنے کی عمر کو نہیں پہنچے ہوتے اچھا پردہ فراہم کرتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 340]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 774
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا اور پھر مجھے ایک راز کی بات بتائی، جو میں کسی انسان کو نہیں بتاؤں گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کے لیے، محبوب ترین اوٹ ٹیلہ یا کھجور کا باغ تھا، ابن اسماء نے اپنی حدیث میں حَائِطُ نَخْلٍ کا معنی نخلستان کیا، ہدف (ٹیلہ)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:774]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قضائے حاجت کے لیے باپردہ جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ ستر عورت ہو سکے۔
فوائد ومسائل:
قضائے حاجت کے لیے باپردہ جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ ستر عورت ہو سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 774]
الحسن بن سعد الهاشمي ← عبد الله بن جعفر الهاشمي