🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
350. ‏(‏117‏)‏ باب قراءة المعوذتين فى الصلاة ضد قول من زعم أن المعوذتين ليستا من القرآن‏.‏
نماز میں معوذتین کی قرأت کرنے کا بیان، اس شخص کے قول کے برخلاف جس کا گمان ہے کہ معوذتین قرآن مجید کا حصہ نہیں ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 534
نا أَبُو عَمَّارٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قُدْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ، فَقَالَ:" أَلا تَرْكَبُ يَا عُقَيْبُ؟"، فَأَجْلَلْتُ أَنْ أَرْكَبَ مَرْكَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" أَلا تَرْكَبُ يَا عُقَيْبُ؟"، فَأَشْفَقْتُ أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبْتُ هُنَيْهَةً، ثُمَّ نَزَلْتُ، وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقَيْبُ، أَلا أُعَلِّمْكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ؟" قُلْتُ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ،" فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَصَلَّى وَقَرَأَ بِهِمَا، ثُمَّ مَرَّ بِي، فَقَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقَيْبُ؟ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَقُمْتَ" . نا أَبُو الْخَطَّابِ ، نا الْوَلِيدُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: عَنِ الْقَاسِمِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ:" كُلَّمَا نِمْتَ وَقُمْتَ"، مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ يُوقِعُ اسْمَ النَّائِمِ عَلَى الْمُضْطَجِعِ، وَيُوقِعُهُ عَلَى النَّائِمِ الزَّائِلِ الْعَقْلِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ فِي هَذَا الْخَبَرِ:" اقْرَأْ بِهِمَا إِذَا نِمْتَ"، أَيْ إِذَا اضْطَجَعْتَ، إِذِ النَّائِمُ الزَّائِلُ الْعَقْلِ مُحَالٌ أَنْ يُخَاطَبَ، فَيُقَالَ لَهُ: إِذَا نِمْتَ وَزَالَ عَقَلَهُ، فَاقْرَأْ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ، وَكَذَاكَ خَبَرُ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ:" صَلاةُ النَّائِمِ عَلَى نِصْفِ صَلاةِ الْقَاعِدِ"، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِالنَّائِمِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ، الْمُضْطَجِعَ لا النَّائِمَ الزَّائِلَ الْعَقْلِ، إِذِ النَّائِمُ الزَّائِلُ الْعَقْلِ غَيْرُ مُخَاطَبٍ بِالصَّلاةِ، لا يُمْكِنْهُ الصَّلاةَ لِزَوَالِ الْعَقْلِ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی سواری کی نکیل تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری) کو اُن گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں چلا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے پیارے عقبہ، تم سوار نہیں ہو گے؟ تو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر سوار ہونا بڑی بے ادبی خیال کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: پیارے عقبہ، تم سوار نہیں ہو گے؟ لہٰذا میں ڈر گیا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ ہو جائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اُتر گئے اور میں کچھ دیر کے لئے اُس پر سوار ہو گیا۔ پھر میں اُتر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے (کچھ دیر کے بعد) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیارے عقبہ، کیا میں تمہیں ایسی دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جنہیں لوگوں نے پڑھا ہے۔ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، ضرور سکھادیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (یہ دو سورتیں) پڑھائیں «‏‏‏‏قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» ‏‏‏‏ [ سورة الفلق ] اور «‏‏‏‏قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» ‏‏‏‏ [ سورة الناس ] پھر نماز کھڑی کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور یہی دو سورتیں پڑھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: پیارے عقبہ، تم نے (ان دو سورتوں کے مقام و مرتبہ کو) کیسے پایا؟ ان دونوں سورتوں کو سوتے وقت اور اُٹھتے وقت پڑھا کرو۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث کے یہ الفاظ جب بھی تو سونے لگے یا بیدارہونے لگے۔ یہ اسی جنس سے ہے جسے میں نے بیان کیا کہ عرب نائم کا لفظ لیٹنے والے پر بھی بولتے ہیں اور اس شخص پر بھی بولتے ہیں جس کی عقل سونے کی حالت میں زائل ہو چکی ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ان دونوں سورتوں کو پڑھا کرو جب تم سو جاؤ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ جب تم سونے کے لئے لیٹو کیونکہ اگر نائم سے مراد ایسا شخص لیں جس کی عقل زائل ہو چکی ہو تو ایسے شخص کو مخاطب کرنا ہی محال و ناممکن ہے کہ اس سے یہ کہا جائے کہ جب تم سو جاؤ، اور اس کی عقل زائل ہو جائے، تو معوذتین کو پڑھا کرو۔ اسی طرح حضرت عمران بن حصین سے مروی سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کی حد یث کا معنی ہے (جس میں ہے) سونے والے کی نماز کا اجر و ثواب بیٹھ کر نماز پڑ ھنے والے کے اجر سے آدھا ہے اس حدیث میں بھی سونے والے سے آپ کی مراد لیٹنے والا ہے۔ وہ نائم مراد نہیں جس کی عقل سونے کی حالت میں زائل ہو چکی ہو۔ کیونکہ ایسا نائم (سونے والا) جس کی عقل زائل ہوچکی ہو، نماز کا مخاطب نہیں ہے اور عقل کے زائل ہونے کی وجہ سے اس کے لئے نماز پڑھنا ممکن بھی نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 534]
تخریج الحدیث: اسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥القاسم بن عبد الرحمن الشامي، أبو عبد الرحمنثقة
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← القاسم بن عبد الرحمن الشامي
ثقة
👤←👥زياد بن يحيى الحساني، أبو الخطاب
Newزياد بن يحيى الحساني ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمرو
Newعقبة بن عامر الجهني ← زياد بن يحيى الحساني
صحابي
👤←👥القاسم بن عبد الرحمن الشامي، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن عبد الرحمن الشامي ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد الأزدي، أبو عتبة
Newعبد الرحمن بن يزيد الأزدي ← القاسم بن عبد الرحمن الشامي
ثقة
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن يزيد الأزدي
ثقة
👤←👥علي بن سهل الحرشي، أبو الحسن
Newعلي بن سهل الحرشي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥الحسين بن حريث الخزاعي، أبو عمار
Newالحسين بن حريث الخزاعي ← علي بن سهل الحرشي
ثقة
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 534 in Urdu