صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
371. (138) باب ذكر الدليل على أن السجود عند قراءة السجدة فضيلة لا فريضة،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ آیت سجدہ، تلاوت کرنے کے بعد سجدہ کرنا فضیلت کا حامل ہے فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 567
نا.... أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيِّ ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَكَانَ رَبِيعَةُ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ مِمَّنْ حَضَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ رَبِيعَةُ: قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ سُورَةَ النَّحْلِ، حَتَّى إِذَا أَتَى السَّجْدَةَ، فَقَالَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا نَمُرُّ بِالسُّجُودِ، فَمَنْ سَجَدَ، فَقَدْ أَصَابَ وَأَحْسَنَ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ، فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَلَمْ يَسْجُدْ"
حضرت ابوبکر بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ربیعہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے والے بہترین لوگوں میں سے ہیں۔ حضرت ربیعہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعتہ المبارک کے روز منبر پر «سورۃ النحل» کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب سجدہ کی آیت پر پہنچے تو فرمایا کہ اے لوگو، ہم آیت سجدہ کے پاس سے گزر رہے ہیں تو جس شخص نے سجدہ کیا تو اُس نے درست اور اچھا کام کیا۔ اور جس نے سجدہ نہ کیا تو اُس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور آپ نے سجدہ نہ کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1077، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 567، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3823، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 5889»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 567 in Urdu
ربيعة بن عبد الله بن الهدير ← عمر بن الخطاب العدوي