صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
372. (139) باب الدليل على المنصت السامع قراءة السجدة لا يجب عليه السجود إذا لم يسجد القارئ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب آیت سجدہ پر قاری قرآن سجدہ نہ کرے تو خاموشی سے سننے والے کے لیے سجدہ تلاوت کرنا واجب نہیں ہے، اس شخص کے قول کے بر خلاف جو گمان کرتا ہے کہ آیت سجدہ کی تلاوت غور سے اور خاموشی کے ساتھ سننے والے شخص پر سجدہ تلاوت واجب ہے
حدیث نمبر: Q568
ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ السَّجْدَةَ عَلَى مَنِ اسْتَمَعَ لَهَا وَأَنْصَتَ.
اس شخص کے قول کے برخلاف جو گمان کرتا ہے کہ آیت سجدہ کی تلاوت غور سے اور خاموشی کے ساتھ سننے والے شخص پر سجدہ واجب ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q568]
حدیث نمبر: 568
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ ذِئْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مَرَّةً، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: " قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ، فَلَمْ يَسْجُدْ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى أَبُو صَخْرٍ هَذَا الْخَبَرَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ جَمِيعًا، حَدَّثَنَا بِهِمَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نا عَمِّي ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ ، بِالإِسْنَادَيْنِ مُنْفَرِدَيْنِ. وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى، فَلَمْ يَسْجُدْ. نَاهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «سورۃ النجم» کی تلاوت کر کے سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ تلاوت نہ کیا۔“ امام صاحب اسی روایت ابوصخر سے دو مختلف سندوں سے بیان کرتے ہیں کہ جناب عطاء بن یسار سے مروی ہے کہ اُنہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو اُنہوں نے فرمایا، بیشک اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ» [ سورة النجم ] پڑھ کر سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ تلاوت نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 568]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1072، 1073، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 577، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 566، 568، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2762، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 959، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1034، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1404، والترمذي فى (جامعه) برقم: 576، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1513، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3769، 3821، 3839، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1527، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21992»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 568 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 568
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں، بلکہ مستحب فعل ہے اور قاری و سامع کا سجدہ تلاوت ترک کرنا گناہ نہیں ہے۔
البتہ سجدہ کی آیت تلاوت کرنے کی صورت میں سجدہ کرنا اولیٰ افضل ہے۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں، بلکہ مستحب فعل ہے اور قاری و سامع کا سجدہ تلاوت ترک کرنا گناہ نہیں ہے۔
البتہ سجدہ کی آیت تلاوت کرنے کی صورت میں سجدہ کرنا اولیٰ افضل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 568]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 568 in Urdu
علي بن حجر السعدي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري