صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
395. (162) باب التحميد والدعاء بعد رفع الرأس من الركوع.
رکوع سے سر اُٹھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرنے اور دعا مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 613
نا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَلِيلٍ الْمُقْرِئَانِ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، نا سَعِيدٌ يَعْنِي عَبْدَ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ":" اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَا وَالْمَجْدِ أَحَقُّ، مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" . لَفْظًا وَاحِدًا، غَيْرُ أَنَّ أَحْمَدَ، قَالَ:" رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ". حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا، وَزَادَ، وَقَالَ:" وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ". نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ أَيْضًا، نا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، بِهَذَا
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اے اللہ، اے ہمارے رب تیرے ہی لئے تمام تعریف و توصیف ہے، آسمان بھر کر اور زمین بھر کر اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے وہ بھر کر (تیری تعریف ہے) تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ بندے نے جو نہایت سچی بات کہی ہے، اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں، (وہ یہ ہے کہ) جو چیز تو عطا فرما دے اُسے کوئی روکنے والا نہیں ہے، اور تجھ سے مال و دولت والے کو مال و دولت کچھ نفع نہیں دے گی۔“ (امام صاحب کے) دونوں اساتذہ کرام نے ایک ہی طرح کی روایت بیان کی ہے، مگر جناب احمد نے کہا: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» یعنی (انہوں نے «اللَّهُمَّ» اور واؤ کے بغیر روایت بیان کی ہے) امام صاحب نے اپنے استاد جناب محمد بن یحییٰ کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ اس میں ان الفاظ کا اضافہ ہے۔ «وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ» ”جو چیز تو روک دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 613]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 477، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 613، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1905، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1067، وأبو داود فى (سننه) برقم: 847، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1352، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2651، 2652، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12007»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 613 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 613
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ رکوع کے بعد قیام (میں حالت اعتدال میں) طوالت اور مذکورہ کلمات کہنا مشروع ہیں۔ ** [نیل الاوطار: 261/2] **
➋ رکوع کے بعد حالت قیام میں مذکورہ دعا کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
➌ رکوع کے بعد اعتدال اور اس میں طمانینت واجب ہے۔
➍ امام، مقتدی اور منفرد میں سے ہر نمازی کے لیے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اور «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» دونوں کلمات کہنا مستحب فعل ہے۔ ** [شرح النووی: 92/4] **
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ رکوع کے بعد قیام (میں حالت اعتدال میں) طوالت اور مذکورہ کلمات کہنا مشروع ہیں۔ ** [نیل الاوطار: 261/2] **
➋ رکوع کے بعد حالت قیام میں مذکورہ دعا کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
➌ رکوع کے بعد اعتدال اور اس میں طمانینت واجب ہے۔
➍ امام، مقتدی اور منفرد میں سے ہر نمازی کے لیے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اور «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» دونوں کلمات کہنا مستحب فعل ہے۔ ** [شرح النووی: 92/4] **
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 613]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 613 in Urdu
بشر بن بكر البجلي ← سعيد بن عبد العزيز التنوخي