🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
407. ‏(‏174‏)‏ باب ذكر خبر روي عن النبى صلى الله عليه وسلم فى بدئه بوضع اليدين قبل الركبتين
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس منسوخ حدیث کا بیان جس میں ہے کہ آپ سجدے کے لیے جھکتے وقت اپنے گھٹنوں سے پہلے دونوں ہاتھ(زمین پر) رکھتے تھے۔ جو اہلِ علم اس کے منسوخ ہونے کو سمجھ نہیں سکے، انہیں اس حدیث سے استدلال کرنے میں غلطی لگی ہے۔ تو اس نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے دونوں گھٹنوں سے پہلے دونوں ہاتھ زمین پررکھنے کو درست قراردیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q627
عِنْدَ إِهْوَائِهِ إِلَى السُّجُودِ مَنْسُوخٍ، غَلِطَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ بَعْضُ مَنْ لَمْ يَفْهَمْ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، فَرَأَى اسْتِعْمَالَ الْخَبَرِ وَالْبَدْءَ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْأَرْضِ قَبْلَ الرُّكْبَتَيْنِ‏.‏
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 627
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَامٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَصْبُغُ ابْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ " يَضَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کہ وہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 627]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 627، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 826، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2682، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1303، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 1513»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← عبيد الله بن عمر العدوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أصبغ بن الفرج الأموي، أبو عبد الله
Newأصبغ بن الفرج الأموي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة
👤←👥محمد بن عمرو الكلبي
Newمحمد بن عمرو الكلبي ← أصبغ بن الفرج الأموي
صدوق حسن الحديث
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 627 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 627
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ سجدہ میں جھکتے وقت پہلے ہاتھ زمین پر رکھے جائیں اور ہاتھ رکھنے کے بعد گھٹنے زمین پر لگانے چاہئیں۔
نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ میں جاتے وقت ہاتھوں سے قبل گھٹنے زمین پر رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يُبْرِكَ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ، وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ»
جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو وہ اونٹ کی طرح (ہاتھوں سے قبل گھٹنے لگا کر) نہ بیٹھے، بلکہ وہ اپنے گھٹنوں سے قبل اپنے ہاتھ زمین پر رکھے۔ [سنن أبي داود: 840، سنن النسائي: 1092، صحيح الجامع: 595، صحيح]
◈ ابوطیب شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
حدیثِ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سجدہ میں گھٹنوں سے قبل ہاتھ زمین پر رکھنے کی مشروعیت کی دلیل ہے اور اوزاعی، مالک، ابن حزم اور ایک قول کے مطابق احمد بن حنبل کا بھی یہی مذہب ہے، نیز حازمی نے اوزاعی سے نقل کیا ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے لوگوں کو پایا کہ وہ سجدہ میں اپنے گھٹنوں سے قبل اپنے ہاتھ زمین پر رکھتے تھے۔
➊ پیشانی کے کچھ حصہ پر سجدہ کرنا کافی ہے۔
➋ ناک پر سجدہ کرنا مستحب ہے اور اگر سجدہ میں ناک زمین پر نہ لگایا جائے تو بھی جائز ہے، لیکن اگر سجدہ میں فقط ناک پر سجدہ کیا جائے اور پیشانی کو چھوڑ دیا جائے تو یہ عمل ناجائز ہے۔
➌ امام شافعی اور امام مالک رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔
➍ امام ابو حنیفہ اور ابن قاسم مالکی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ ناک اور پیشانی میں سے کسی ایک پر سجدہ کرنا کافی ہے۔
➎ امام احمد اور ابن حبیب مالکی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پیشانی اور ناک دونوں اعضاء پر سجدہ کرنا واجب ہے۔
اکثر علماء کہتے ہیں کہ ظاہر احادیث کی رو سے پیشانی اور ناک ایک ہی عضو ہیں۔ [شرح النووي: 207/4]
اس بارے میں امام احمد رحمہ اللہ کا موقف راجح اور قرین صواب ہے۔
◈ عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
میرے نزدیک پیشانی اور ناک دونوں اعضاء پر سجدہ کرنا راجح ہے۔ [تحفة الأحوذي: 105/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 627]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 627 in Urdu