صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. (47) باب كراهية تسمية البائل مهريقا للماء
پیشاب کرنے والے کو پانی بہانے والا کہنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، وَابْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَالَ فِي الشِّعْبِ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ" وَلَمْ يَقُلْ: أَهْرَاقَ الْمَاءَ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات گھاٹی میں (اُتر کر) پیشاب کیا۔ یہ نہیں کہا کہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) پانی بہایا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 64]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 139، 181، 1666، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1280، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1465، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 64، 973، 2824، 2844، 2845، 2847، 2850، 2851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1594، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1715، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1921، 1923، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3017، 3019، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 390، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1854»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 64 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 64
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ پیشاب کرنے کے لیے پیشاب کا لفظ استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے لیے پانی بہانا یا ایسا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے جو حلال چیزوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ پیشاب کرنے کے لیے پیشاب کا لفظ استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے لیے پانی بہانا یا ایسا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے جو حلال چیزوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 64]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 64 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي