علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
467. (234) باب مسألة الله الجنة بعد التشهد وقبل التسليم، والاستعاذة بالله من النار.
تشہد پڑھنے کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے جنّت مانگنے اور جھنّم کی آگ سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 725
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ:" مَا تَقُولُ فِي الصَّلاةِ؟"، قَالَ: أَتَشَهَّدُ، ثُمَّ أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَوْلَهُمَا نُدَنْدِنُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الدَّنْدَنَةُ الْكَلامُ الَّذِي لا يُفْهَمُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: ”تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟“ اُس نے عرض کی کہ میں تشہد پڑھتا ہوں، پھر یہ دعا مانگتا ہوں، «اللّهُـمَّ إِنِّـي أَسْأَلُـكَ الجَـنَّةَ وأََعوذُ بِـكَ مِـنَ الـنّار» ”اے اللہ میں تجھ سے جنّت کا سوال کرتا ہوں اور جہنّم کی آگ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (پھر اُس آدمی نے کہا) ﷲ کی قسم، مجھے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اور نہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرح گُنگُنانا آتا ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح جامع دعائیں نہیں آتیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم بھی انہیں دو چیزوں کے ارد گرد گنگناتے ہیں (یعنی ہم بھی اللہ تعالیٰ سے یہی دو دعائیں مانگتے ہیں) امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دندنہ سے مراد وہی کلام سے جو سمجھی نہ جا سکے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 725]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 725 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي