صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
480. (247) بَابُ الْأَمْرِ بِمَسْأَلَةِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ فِي دُبُرِ الصَّلَوَاتِ، الْمَعُونَةَ عَلَى ذِكْرِهِ وَشُكْرِهِ وَحُسْنِ عِبَادَتِهِ، وَالْوَصِيَّةِ بِذَلِكَ.
نماز کے بعد، اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کا شکر ادا کرنا اور اس کی عبادت عمدہ طریقے سے ادا کرنے کیلئے رب عزوجل سے مدد و توفیق مانگنے کے حکم اور اس کی وصیت کرنے کابیان
حدیث نمبر: 751
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِيَدِي، فَقَالَ لِي:" يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ"، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ، قَالَ:" يَا مُعَاذُ إِنِّي أُوصِيكَ، لا تَدَعَنَّ أَنْ تَقُولَ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ" . وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے معاذ، اللہ کی قسم، بیشک مجھے تم سے محبت ہے تو میں نے عرض کی کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، اللہ کی قسم، بلاشبہ مجھے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ، میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنا ہرگز نہ چھوڑنا“ «اللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» ”اے اللہ اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت کرنے کے لئے میری مدد فرما“ ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے (اپنے شاگرد) صنابحی کو اس کی وصیت کی، اور جناب صنابحی نے (اپنے شاگرد) ابوعبدالرحمان حبلی کو اس کی وصیت کی اور ابوعبدالرحمان نے عقبہ بن مسلم کو اس کی وصیت کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 751]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 751، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2020، 2021، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1015، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1302، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1522، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22546»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 751 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 751
فوائد:
➊ جس شخص سے اللہ کی خاطر محبت ہو، اسے محبت سے آگاہ کرنا درست ہے۔
➋ نماز کے بعد اس دعا کا بطور خاص اہتمام کرنا مستحب فعل ہے کیونکہ اس کی خاص تاکید بیان ہوئی ہے۔
➊ جس شخص سے اللہ کی خاطر محبت ہو، اسے محبت سے آگاہ کرنا درست ہے۔
➋ نماز کے بعد اس دعا کا بطور خاص اہتمام کرنا مستحب فعل ہے کیونکہ اس کی خاص تاکید بیان ہوئی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 751]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 751 in Urdu
عبد الرحمن بن عسيلة الصنابحي ← معاذ بن جبل الأنصاري