صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سُترہ کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 799
نَا الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُرْكَزُ لَهُ الْحَرْبَةُ، يُصَلِّي إِلَيْهَا يَوْمَ الْعِيدِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نیزہ گاڑ دیا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید والے دن اُسے سُترہ بنا کر نماز پڑھتے تھے ـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 799]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 494، 498، 972، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 501، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 798، 799، 1433، 1434، 1435، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2377، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 746، وأبو داود فى (سننه) برقم: 687، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 941، 1304، 1305، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4704»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 799 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 799
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نمازی کے لیے سترہ کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”نمازی کا سترہ استعمال کرنا مندوب ہے اور سترہ کی کم از کم بلندی کجاوے کے پچھلے حصہ کی ہڈی کے برابر (یعنی دو تہائی بازو ہونی چاہیے) اور کوئی بھی چیز سامنے رکھنے سے سترہ کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔“ [شرح صحيح مسلم للنووي: 215/4]
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نمازی کے لیے سترہ کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”نمازی کا سترہ استعمال کرنا مندوب ہے اور سترہ کی کم از کم بلندی کجاوے کے پچھلے حصہ کی ہڈی کے برابر (یعنی دو تہائی بازو ہونی چاہیے) اور کوئی بھی چیز سامنے رکھنے سے سترہ کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔“ [شرح صحيح مسلم للنووي: 215/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 799]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 799 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي