صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ سُترے کی اس مقدار کا بیان جس کے ساتھ نماز میں سُترہ بنانا کافی ہوجائے۔
حدیث نمبر: 807
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، كِلاهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " كَمْ مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ الَّذِي سَعَلَ إِنَّهُ يَسْتُرُ الْمُصَلِّي؟ قَالَ: قَدْرُ ذِرَاعٍ"
ابن جریج رحمه الله کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمه الله سے عرض کی کہ کجاوے کی پچھلی لکڑی جو تمہیں پہنچی ہے اس کی کتنی مقدار ہو تو وہ سُترہ بن سکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک ہاتھ کے برابر۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 807، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 2272»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 807 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 807
فوائد:
➊ سترہ کی کم از کم بلندی کجاوے کے پچھلے حصے کے برابر یعنی دو تہائی ہاتھ ہونی چاہیے۔
➋ سترے کے عدم اہتمام سے شیطان نمازی کی نماز میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور تین چیزیں عورت، گدھا اور کالا کتا تو نماز توڑ دیتے ہیں۔
نیز سترے کے استعمال سے نماز میں نقص واقع نہیں ہوتا، لہذا سترہ نماز کا محافظ ہے۔
➊ سترہ کی کم از کم بلندی کجاوے کے پچھلے حصے کے برابر یعنی دو تہائی ہاتھ ہونی چاہیے۔
➋ سترے کے عدم اہتمام سے شیطان نمازی کی نماز میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور تین چیزیں عورت، گدھا اور کالا کتا تو نماز توڑ دیتے ہیں۔
نیز سترے کے استعمال سے نماز میں نقص واقع نہیں ہوتا، لہذا سترہ نماز کا محافظ ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 807]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 807 in Urdu