🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
548. (315) باب ذكر الكلام فى الصلاة والمصلي غير عالم أنه قد بقي عليه بعض صلاته،
نماز میں بات چیت کرنے کا بیان جبکہ نمازی کو یہ علم نہ ہو کہ اس کی کچھ نماز ابھی باقی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q860
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْكَلَامَ وَالْمُصَلِّي هَذِهِ صِفَتُهُ غَيْرُ مُفْسِدٍ لِلصَّلَاةِ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس نمازی کا یہ حال ہو اس کی بات چیت نماز کو فاسد نہیں کرتی [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه/حدیث: Q860]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 860
نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الظُّهْرُ رَكْعَتَيْنِ، فَأَتَى خَشَبَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ عَلَيْهَا يَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: قَصُرَتِ الصَّلاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَرَجُلٌ قَصِيرُ الْيَدَيْنِ أَوْ طَوِيلُهُمَا يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتِ الصَّلاةُ أَوْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ:" لَمْ تَقْصُرْ، وَلَمْ أَنَسَ"، فَقَالَ: بَلْ نَسِيتَ، فَقَالَ:" صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ" وَذَكَرَ بُنْدَارٌ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ السَّهْوِ فِي الصَّلاةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی دو نمازوں یعنی ظہر یا عصر میں سے ایک نماز دو رکعت پڑھائی، میرا غالب گمان ہے کہ وہ ظہر کی نماز تھی ـ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے قبلے میں موجود لکڑی کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھ ایک دوسرے پر ٹکا کر اس پر رکھ دیئے۔ اور جلد باز لوگ مسجد سے نکل گئے۔ اور یہ کہتے گئے کہ نماز کم ہوگئی ہے۔ جبکہ لوگوں میں سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے مگر وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے ہوئے ڈرے۔ ایک شخص جس کے ہاتھ چھوٹے یا لمبے ہونے کی وجہ سے اُسے ذو الیدین (دو ہاتھوں والا) کہا جاتا تھا، اُس نے کہا کہ (اے اللہ کے رسول) کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔ تو اُس نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بقیہ) دو رکعت ادا کیں پھر سلام پھیرا اور تکبیر کہی اور اپنے سجدے کی مثل یا اس سے طویل سجدہ کیا پھر سجدے سے سر اُٹھایا۔ (پھر دوسرا سجدہ کیا) بندار نے مکمّل حدیث بیان کی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے یہ مکمّل باب كتاب السهو فى الصلاة میں بیان کر دیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه/حدیث: 860]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، 715، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، ومالك فى (الموطأ) برقم: 309، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، 1035، 1036، 1037، 1038، 1040 م، 1041، 1042، 1043، 1044، 1045، 1046، 1047، 1048، 1049، 1050، 1051، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3405، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبتت حجة
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← أيوب السختياني
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 860 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 860
فوائد:
➊ افعال و عبادات میں انبیاء علیہم السلام سے بھول چوک سرزد ہو جاتی ہے، لیکن وہ اس بھول پر قائم نہیں رہتے، بلکہ ان کی اصلاح کر دی جاتی ہے۔
➋ اکیلا شخص ایسی چیز کے اثبات کا دعویٰ کرے جو کام مجمعِ عام کے سامنے ہوا ہے، تو اس بارے میں حاضرین سے ضرور پوچھنا چاہیے، اس صورت میں محض اس اکیلے شخص کی بات پر عمل درآمد نہیں ہو گا۔
➌ اس میں سہو کے دو سجدوں کا اثبات ہے۔ ہر سجدے پر اللہ اکبر کہا جائے گا اور یہ دونوں سجدے نماز کے سجدوں کی مثل ہیں۔ کیونکہ اگر یہ خلافِ معمول ہوتے تو اس کی وضاحت کر دی جاتی۔ سجدہ سہو کے آخر میں سلام پھیرا جائے گا، نیز سجدہ سہو میں تشہد مشروع ہے۔
➍ نماز میں بھول کر کلام کرنا یعنی جسے یقین ہے کہ وہ حالتِ نماز میں نہیں، اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔ جمہور سلف و خلف مثلاً ابن عباس، عبد اللہ بن زبیر، عروہ، عطاء، حسن بصری، شعبی، قتادہ، اوزاعی، مالک، شافعی، احمد، اور جمیع محدثین کا یہی مسلک ہے۔ [شرح النووي: 70/6]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 860]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 860 in Urdu