صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
555. (322) باب الأمر بقتل الحية والعقرب فى الصلاة
نماز میں سانپ اور بچّھو کو قتل کرنے کے حُکم کا بیان۔
حدیث نمبر: Q869
ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ قَتْلَهَا وَقَتْلَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الِانْفِرَادِ يُفْسِدُ الصَّلَاةَ
اس شخص کے دعوے کے برخلاف جو کہتا ہے کہ انہیں قتل کرنے سے اور ان میں سے ہر ایک کے قتل کرنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: Q869]
حدیث نمبر: 869
نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمْرَ بِقَتْلِ الأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلاةِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ" وَفِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ، قَالَ مَعْمَرٌ، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ:" الْعَقْرَبُ وَالْحَيَّةُ" وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ يَحْيَى: يَعْنِي الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو سیاہ چیزوں بچّھواور سانپ کو قتل کرنے کا حُکم دیا ہے۔ جناب غندر کی حدیث میں ہے، معمر کہتے ہیں کہ میں نے اُن سے دو سیاہ چیزیں دریافت کیں تو اُنہوں نے فرمایا: بچّھو اور سانپ۔ اور جناب عبدالاعلیٰ کی حدیث میں ہے، یحییٰ کہتے ہیں کہ یعنی سانپ اور بچّھو مراد ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 869]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 236، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 869، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2351، 2352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 945، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1201، وأبو داود فى (سننه) برقم: 921، والترمذي فى (جامعه) برقم: 390، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1545، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1245، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3491، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7299»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 869 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 869
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ دورانِ نماز سانپ اور بچھو کو مارنا بلا کراہت جائز ہے۔ جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
➋ بچھو اور سانپ کی طرح ہر موذی جانور جیسے بھڑ وغیرہ بھی اسی حکم میں شامل ہیں۔ نماز میں انہیں بھی قتل کرنا مباح ہے۔ [نیل الأوطار: 358/2]
➌ دورانِ نماز سانپ اور بچھو کو مارنے میں کوئی قباحت نہیں۔ ◈ حسن بصری، امام شافعی، اسحاق بن راہویہ اور اصحاب الرائے کا یہی مذہب ہے، لیکن ابراہیم نخعی اسے مکروہ خیال کرتے ہیں۔ [المغني لابن قدامة: 128/3]
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ دورانِ نماز سانپ اور بچھو کو مارنا بلا کراہت جائز ہے۔ جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
➋ بچھو اور سانپ کی طرح ہر موذی جانور جیسے بھڑ وغیرہ بھی اسی حکم میں شامل ہیں۔ نماز میں انہیں بھی قتل کرنا مباح ہے۔ [نیل الأوطار: 358/2]
➌ دورانِ نماز سانپ اور بچھو کو مارنے میں کوئی قباحت نہیں۔ ◈ حسن بصری، امام شافعی، اسحاق بن راہویہ اور اصحاب الرائے کا یہی مذہب ہے، لیکن ابراہیم نخعی اسے مکروہ خیال کرتے ہیں۔ [المغني لابن قدامة: 128/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 869]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 869 in Urdu
ضمضم بن جوس الهفاني ← أبو هريرة الدوسي