صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
576. (343) باب الدليل على أن البكاء فى الصلاة لا يقطع الصلاة، مع إباحة البكاء فى الصلاة
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں رونا نماز کو نہیں توڑتا، اور نماز میں رونا جائز ہے
حدیث نمبر: 900
نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي وَلِصَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ"
جناب مطرف اپنے والد گرامی (عبداللہ بن شخیر) سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے سے ہنڈیا کے اُبلنے اور جوش مارنے جیسی آواز آرہی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 900]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 900، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 665، 753، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 977، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 904، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3408، 3409، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16570»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 900 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 900
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ رونے سے نماز باطل نہیں ہوتی، خواہ روتے ہوئے ایک دو حرف زبان سے نکل جائیں (اس عمل سے نماز فاسد نہیں ہوتی)۔ [نيل الأوطار: 2/399]
یہ احادیث دلیل ہیں کہ رونے سے نماز باطل نہیں ہوتی، خواہ روتے ہوئے ایک دو حرف زبان سے نکل جائیں (اس عمل سے نماز فاسد نہیں ہوتی)۔ [نيل الأوطار: 2/399]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 900]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 900 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عبد الله بن الشخير الحرشي