صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
577. (344) باب الدليل على أن النفخ فى الصلاة، لا يفسد الصلاة، ولا يقطعها، مع إباحة النفخ عند الحادثة تحدث فى الصلاة
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں پھونک مارنا، نماز کو فاسد نہیں کرتا اور نہ اسے توڑتا ہے، جبکہ نماز میں کسی حادثے کے وقت پھونک مارنا جائز ہے
حدیث نمبر: 901
نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، فَجَعَلَ يَنْفُخُ وَيَبْكِي وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَنْفُخُهَا، فَخِفْتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ"
سیدنا عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک روز سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو دیر تک سر نہ اُٹھایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھونکیں مارنا اور رونا شروع کر دیا، آگے حدیث ذکر کی۔ حضرت عبداللہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے بعد) کھڑے ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، اور فرمایا: ”مجھے آگ دکھائی گئی تو میں نے پھونکیں مارنا شروع کر دیا، مجھے ڈر لگا کہ کہیں یہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 901]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1045، 1051، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 910، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 901، 1375، 1376، 1389، 1392، 1393، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2829، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1233، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1478، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1194، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3414، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6594»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 901 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 901
فوائد:
بہ وقت حاجت نماز میں پھونکنے سے نماز باطل نہیں ہوتی بلکہ ضرورت کے وقت ایسا عمل جائز ہے۔
بہ وقت حاجت نماز میں پھونکنے سے نماز باطل نہیں ہوتی بلکہ ضرورت کے وقت ایسا عمل جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 901]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 901 in Urdu
السائب بن مالك الثقفي ← عبد الله بن عمرو السهمي