🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
580. (347) باب ذكر الدليل على أن النعاس فى الصلاة لا يفسد الصلاة ولا يقطعها
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں اونگھ آنا نماز کو فاسد نہیں کرتا اور نہ نماز ٹوٹتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 907
نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ كُرَيْبٍ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ؛ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عِيسَى. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِي الْخَبَرِ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ النُّعَاسَ لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ، إِذْ لَوْ كَانَ النُّعَاسُ يَقْطَعُ الصَّلاةَ لَمَا كَانَ، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّهُ لا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ مَعْنًى، وَقَدْ أَعْلَمَ بِهَذَا الْقَوْلِ أَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَنَا الانْصِرَافَ مِنَ الصَّلاةِ خَوْفَ سَبِّ النَّفْسِ عِنْدَ إِرَادَةِ الدُّعَاءِ لَهَا، لا أَنَّهُ فِي غَيْرِ صَلاةٍ إِذَا نَعَسَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے (نماز ختم کر کے) سو جانا چاہیے حتیٰ کہ اس کی نیند ختم ہو جاۓ کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص اونگھتے ہوئے نماز پڑھتا ہے تو شاید وہ استغفار کرنا چاہتا ہو مگر (اونگھ کی وجہ سے) اپنے آپ کو بددعا دے بیٹھے۔ یہ عیسیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں دلیل ہے کہ اونگھ سے نماز نہیں ٹوٹتی کیونکہ اگر اونگھ سے نماز ٹوٹ جاتی تو پھرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا کوئی معنی نہیں بنتا کہ وہ نہیں جانتا شاید کہ وہ دعا و استغفار کرنا چاہتا ہو (مگر اونگھ کی وجہ سے) اپنے لئے بددعا کر بیٹھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز چھوڑ دینے کا حُکم اس خدشے کی وجہ سے دیا ہے کہ کہیں نمازی دعا کی بجاۓ اپنے لئے بددعا نہ کر بیٹھے۔ یہ مطلب نہیں کہ جب اسے اونگھ آجاۓ تو وہ نماز میں نہیں رہتا (اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 907]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 212، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 786، ومالك فى (الموطأ) برقم: 387، ومالك فى (الموطأ) برقم: 387، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 907، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2583، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 162، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 153، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1310، والترمذي فى (جامعه) برقم: 355، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1370، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4803،وأحمد فى (مسنده) برقم: 24925»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← أيوب السختياني
ثقة ثبت
👤←👥بشر بن هلال الصواف، أبو محمد
Newبشر بن هلال الصواف ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← بشر بن هلال الصواف
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الجبار بن العلاء العطار، أبو بكر
Newعبد الجبار بن العلاء العطار ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← عبد الجبار بن العلاء العطار
ثقة مأمون
👤←👥علي بن خشرم المروزي، أبو الحسن
Newعلي بن خشرم المروزي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 907 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 907
فوائد:
➊ اس حدیث میں نماز میں خشوع اختیار کرنے اور دورانِ نماز فارغ البالی اور چستی پیدا کرنے کی ترغیب ہے۔
➋ یہ فرض و نفل تمام نمازوں کے لیے عام حکم ہے، لیکن فرض نماز کا اصل وقت نہیں نکلنا چاہیے۔
شافعیہ اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔  [شرح صحيح مسلم للنووي: 73/6]
➌ اونگھنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، البتہ اونگھ کا انتہائی غلبہ صحتِ نماز کے منافی ہے اور اس صورت میں نماز ترک کر کے نیند کرنا بہتر ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 907]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 907 in Urdu