صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
581. (348) باب النهي عن الاختصار فى الصلاة
نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنا منع ہے
حدیث نمبر: 908
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا" وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الاخْتِصَارِ فِي الصَّلاةِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”کوئی آدمی کوکھ (پہلوؤں) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے۔“ جبکہ جناب اسماعیل کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي/حدیث: 908]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1219، 1220، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 545، وابن الجارود فى "المنتقى"، 244، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 908، 909، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2285، 2286، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 980، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 889، وأبو داود فى (سننه) برقم: 947، والترمذي فى (جامعه) برقم: 383، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1468، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3618، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7296»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 908 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 908
فوائد:
➊ علماء نے اس حدیث کے مفہوم کی تعیین میں اختلاف کیا ہے، لیکن راجح موقف، جس کی تحقیق اہل لغت اور محدثین کی اکثریت قائل ہے، یہ ہے کہ مختصر سے مراد وہ شخص ہے جو حالت نماز میں اپنا ہاتھ اپنے پہلو پر رکھتا ہے۔ [شرح النووي: 35/5]
➋ یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز میں اختصار (پہلوؤں پر ہاتھ رکھنا) حرام فعل ہے اور اہل ظاہر کا یہی مذہب ہے اور ابن عباس، ابن عمر، عائشہ اور ابراہیم نخعی، مجاہد، ابوجعفر، مالک، اوزاعی، شافعی اور اہل کوفہ کا موقف یہ ہے کہ یہ عمل مکروہ ہے۔
اہل ظاہر کا موقف راجح ہے کیونکہ یہاں کوئی قرینہ صارفہ نہیں جو نہی کو تحریم حقیقی کے معنی سے کراہت میں تبدیل کرے۔ [نیل الأوطار: 352/2]
➊ علماء نے اس حدیث کے مفہوم کی تعیین میں اختلاف کیا ہے، لیکن راجح موقف، جس کی تحقیق اہل لغت اور محدثین کی اکثریت قائل ہے، یہ ہے کہ مختصر سے مراد وہ شخص ہے جو حالت نماز میں اپنا ہاتھ اپنے پہلو پر رکھتا ہے۔ [شرح النووي: 35/5]
➋ یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز میں اختصار (پہلوؤں پر ہاتھ رکھنا) حرام فعل ہے اور اہل ظاہر کا یہی مذہب ہے اور ابن عباس، ابن عمر، عائشہ اور ابراہیم نخعی، مجاہد، ابوجعفر، مالک، اوزاعی، شافعی اور اہل کوفہ کا موقف یہ ہے کہ یہ عمل مکروہ ہے۔
اہل ظاہر کا موقف راجح ہے کیونکہ یہاں کوئی قرینہ صارفہ نہیں جو نہی کو تحریم حقیقی کے معنی سے کراہت میں تبدیل کرے۔ [نیل الأوطار: 352/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 908]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 908 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي