صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
582. (349) باب ذكر العلة التى لها زجر عن الاختصار فى الصلاة،
اس علت کا بیان جس کی وجہ سے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع کیا گیا ہے،
حدیث نمبر: Q909
إِذْ هِيَ رَاحَةُ أَهْلِ النَّارِ، بِاللَّهِ نَتَعَوَّذُ مِنَ النَّارِ
کیونکہ یہ جہنّمیوں کے آرام کرنے کا طریقہ و انداز ہے، ہم اللہ تعالی سے جہنّم کی آگ سے پناہ مانگتے ہیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي/حدیث: Q909]
حدیث نمبر: 909
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ ، نَا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الاخْتِصَارُ فِي الصَّلاةِ رَاحَةُ أَهْلِ النَّارِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں کوکھ (پہلو) پر ہاتھ رکھنا جہنّمیوں کے آرام و راحت کا طریقہ ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي/حدیث: 909]
تخریج الحدیث: «منكر، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1219، 1220، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 545، وابن الجارود فى "المنتقى"، 244، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 908، 909، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2285، 2286، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 980، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 889، وأبو داود فى (سننه) برقم: 947، والترمذي فى (جامعه) برقم: 383، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1468، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3618، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7296»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 909 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 909
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانا اور بال اکٹھے کر کے سر کے پچھلے حصے پر باندھنا مکروہ فعل ہے اور اس سے کراہت کی حکمت یہ ہے کہ نمازی جب سجدہ کرتا ہے تو بال بھی سجدہ کرتے ہیں۔
(لہذا بالوں کی چوٹی بنانا یا انہیں لپیٹ کر باندھنا مکروہ فعل ہے) [نیل الأوطار: 350/2]
➋ نماز پڑھتے شخص کو برائی سے روکنا اور غلطی کی اصلاح کرنا جائز ہے اس سے نمازی کی نماز فاسد نہیں ہوتی، اور اسے مصلح سے تعاون کرنا چاہیے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانا اور بال اکٹھے کر کے سر کے پچھلے حصے پر باندھنا مکروہ فعل ہے اور اس سے کراہت کی حکمت یہ ہے کہ نمازی جب سجدہ کرتا ہے تو بال بھی سجدہ کرتے ہیں۔
(لہذا بالوں کی چوٹی بنانا یا انہیں لپیٹ کر باندھنا مکروہ فعل ہے) [نیل الأوطار: 350/2]
➋ نماز پڑھتے شخص کو برائی سے روکنا اور غلطی کی اصلاح کرنا جائز ہے اس سے نمازی کی نماز فاسد نہیں ہوتی، اور اسے مصلح سے تعاون کرنا چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 909]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 909 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي