صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
610. (377) باب ذكر الخبر المبين
گزشتہ مجمل خبر کو بیان کرنے والی روایت کا بیان
حدیث نمبر: Q944
بِأَنَّ اللَّفْظَةَ الَّتِي ذَكَرْتُهَا فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَفْظٌ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ، أَرَادَ أَنْ فَرَضَ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ خَلَا الْمَغْرِبِ
کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کے الفاظ عام ہیں اور ان سے مراد خاص ہے، آپ کا مطلب یہ تھا کہ سفر میں مغرب کے سوا بقیہ نمازیں دو رکعت فرض ہیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: Q944]
حدیث نمبر: 944
نَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ ، قَالَ أَحْمَدُ أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" فَرْضُ صَلاةِ السَّفَرِ وَالْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ زِيدَ فِي صَلاةِ الْحَضَرِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ، وَتُرِكَتْ صَلاةُ الْفَجْرِ بِطُولِ الْقِرَاءَةِ، وَصَلاةُ الْمَغْرِبِ لأَنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (ابتدائے اسلام میں) سفر اور حضر میں دو دو رکعتیں نماز فرض ہوئی تھی، پھر جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منوّرہ میں اقامت اختیار کی تو حضر کی نماز میں دو دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا گیا جبکہ نماز فجر کو لمبی قرا ت کی وجہ سے دو رکعتیں ہی رہنے دیا گیا اور نماز مغرب کو (تین رکعتیں رکھا گیا) کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 944]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 350، 1090، 3935، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 685، ومالك فى (الموطأ) برقم: 486، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 303، 305، 944، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2736، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 452، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1198، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1550، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1725، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26607»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 944 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 944
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ دورانِ سفر قصر نماز ادا کرنا واجب ہے۔
◈ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اکثر علماءِ سلف اور فقہاء کا مذہب ہے کہ سفر میں نماز قصر کرنا واجب ہے۔
علی، عمر، ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہم، عمر بن عبدالعزیز، قتادہ اور حسن بصری بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔
نیز امام شوکانی نے اسی موقف کو راجح قرار دیا ہے۔ [نیل الأوطار: 214/3]
➋ ◈ عبدالرحمن مبارکپوری بیان کرتے ہیں: سننِ نبویہ اور آثارِ مصطفویہ کے متبعین کے شایانِ شان ہے کہ وہ سفر میں قصر نماز کا التزام کریں، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ہمیشہ قصر کی ہے۔ [تحفة الأحوذي: 73/3]
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ دورانِ سفر قصر نماز ادا کرنا واجب ہے۔
◈ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اکثر علماءِ سلف اور فقہاء کا مذہب ہے کہ سفر میں نماز قصر کرنا واجب ہے۔
علی، عمر، ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہم، عمر بن عبدالعزیز، قتادہ اور حسن بصری بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔
نیز امام شوکانی نے اسی موقف کو راجح قرار دیا ہے۔ [نیل الأوطار: 214/3]
➋ ◈ عبدالرحمن مبارکپوری بیان کرتے ہیں: سننِ نبویہ اور آثارِ مصطفویہ کے متبعین کے شایانِ شان ہے کہ وہ سفر میں قصر نماز کا التزام کریں، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ہمیشہ قصر کی ہے۔ [تحفة الأحوذي: 73/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 944]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 944 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق