صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
611. (378) باب ذكر الدليل على أن الله عز وجل
اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالی کبھی ایک چیز کو اپنی کتاب میں شرط کے ساتھ جائز کرتے ہیں
حدیث نمبر: Q945
قَدْ يُبِيحُ الشَّيْءَ فِي كِتَابِهِ بِشَرْطٍ، وَقَدْ يُبِيحُ ذَلِكَ الشَّيْءَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ الشَّرْطِ الَّذِي أَبَاحَهُ فِي الْكِتَابِ، إِذِ اللَّهُ عَزَّ ذِكْرُهُ إِنَّمَا أَبَاحَ فِي كِتَابِهِ قَصْرَ الصَّلَاةِ إِذَا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ عِنْدَ الْخَوْفِ مِنَ الْكُفَّارِ أَنْ يَفْتِنُوا الْمُسْلِمِينَ، وَقَدْ أَبَاحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَصْرَ وَإِنْ لَمْ يَخَافُوا أَنْ يَفْتِنَهُمُ الْكُفَّارُ، مَعَ الدَّلِيلِ أَنَّ الْقَصْرَ فِي السَّفَرِ إِبَاحَةٌ لَا حَتْمٌ أَنْ يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ
حدیث نمبر: 945
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، ح وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٌ ، أَنَّ يَحْيَى حَدَّثَهُمْ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: عَجِبْتُ لِلنَّاسِ وَقَصْرِهِمْ لِلصَّلاةِ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، وَقَدْ ذَهَبَ هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" هُوَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ" هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ
یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجہے لوگوں کے نماز قصر کرنے پر تعجب ہوتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا» [ سورة النساء: 101 ] ”اور اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں ڈال دیں گے تو تم پر قصر کرنے میں کوئی حرج و گناہ نہیں ہے۔“ اور اب تو یہ خوف ختم ہو چکا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے بھی اس بات پر تعجب ہوا تھا جس پر تمہیں ہوا ہے، اسی لئے میں نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک صدقہ ہے جسے الله تعالی نے تم پر بطور رحمت کیا ہے تو تم اس کا صدقہ قبول کرو .(اور اس رخصت سے فائدہ اٹھاؤ)“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 945]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 686، وابن الجارود فى "المنتقى"، 163، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 945، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2739، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1432، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1199، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3034، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1546، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1065، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5461، وأحمد فى (مسنده) برقم: 176»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 945 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 945
فوائد:
➊ یہ حدیث بھی سفر میں نماز قصر کے افضل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ «فَاقْبَلُوا» صدقہ ہے اور وجوب پر دلالت کرتا ہے اور سفر میں نماز قصر کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے۔
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ اس حدیث کی رو سے بغیر خوف کے بھی سفر میں نماز قصر کرنا جائز ہے، نیز مفضول (جس سے دوسرے کا مقام بلند ہو) بزرگ شخصیت کو ایسا عمل کرتا دیکھے جو اس کے لیے پریشانی کا باعث ہو تو وہ اس بارے سوال کر سکتا ہے۔ [شرح النووي: 195/5]
➊ یہ حدیث بھی سفر میں نماز قصر کے افضل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ «فَاقْبَلُوا» صدقہ ہے اور وجوب پر دلالت کرتا ہے اور سفر میں نماز قصر کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے۔
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ اس حدیث کی رو سے بغیر خوف کے بھی سفر میں نماز قصر کرنا جائز ہے، نیز مفضول (جس سے دوسرے کا مقام بلند ہو) بزرگ شخصیت کو ایسا عمل کرتا دیکھے جو اس کے لیے پریشانی کا باعث ہو تو وہ اس بارے سوال کر سکتا ہے۔ [شرح النووي: 195/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 945]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 945 in Urdu
يعلى بن منية التميمي ← عمر بن الخطاب العدوي