صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
614. (381) باب إباحة قصر المسافر الصلاة فى المدن إذا قدمها، ما لم ينو مقاما يوجب إتمام الصلاة
مسافر کے کسی شہر میں آکر نماز قصر کرنے کا بیان، جب تک وہ اتنے دن قیام کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو کہ جس میں مکمّل نماز پڑھنا واجب ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 952
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ عِنْدِي دَالٌ عَلَى أَنَّ الْمُسَافِرَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ فَعَلَيْهِ إِتْمَامُ الصَّلاةِ لِرِوَايَةِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الَّذِي، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمُسَافِرِ يُصَلِّي خَلْفَ الْمُقِيمِ. قَالَ: يُصَلِّي بِصَلاتِهِ. وَلَسْنَا نَحْتَجُّ بِرِوَايَةِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، إِلا أَنَّ خَبَرَ قَتَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ دَالٌ عَلَى خِلافِ رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ فِي الْمُسَافِرِ يُصَلِّي خَلْفَ الْمُقِيمِ، قَالَ: إِنْ شَاءَ سَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَإِنْ شَاءَ ذَهَبَ
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ جب مسافر (مقیم) امام کے ساتھ نماز پڑھے تو اُسے مکمل نماز پڑھنی چاہیے۔ جناب طاؤس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس مسافر کے بارے میں پوچھا جو مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہے تو اُنہوں نے فرمایا کہ اُسے امام ہی کی طرح نماز پڑھنی چاہیے۔ (یعنی اگرامام قصر کرے تو وہ بھی قصر کرے، اگر امام مکمّل نماز پڑھے تو وہ بھی مکمّل نماز پڑھے) ہم لیث بن ابی سلیم کی روایت سے دلیل نہیں لیتے مگر جناب قتادہ کی موسٰی بن سلمہ سے روایت، سلیمان التیمی کی طاؤس سے روایت کر دہ حدیث کے خلاف دلیل ہے کہ وہ مسافر جو مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھے تو وہ اگر چاہے تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دے اور اگر چاہے تو مکمل ادا کر لے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 952]
تخریج الحدیث:
الرواة الحديث:
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي