صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
615. (382) باب إباحة قصر المسافر إذا أقام بالبلدة أكثر من خمس عشرة من غير إزماع على إقامة معلومة بالبلدة على الحاجة
جب مسافر کسی شہر میں اپنی حاجت و ضرورت کی وجہ سے پندرہ دن سے زائد غیر معینہ مدت تک بغیر پختہ ارادہ کیے اقامت پذیر رہے تو اُس کے لئے نماز قصر کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 955
نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ضُرَيْسٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نَا عَاصِمٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا، فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ" قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَنَحْنُ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا. قَالَ ابْنُ ضُرَيْسٍ: عَنْ عَاصِمٍ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُنیس دن تک اقامت پذیر رہے اور نماز دو رکعتیں پڑھتے رہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لہٰذا ہم بھی اُنیس دن تک سفر میں دو رکعتیں (نماز قصر) پڑھتے ہیں، اور اگر ہم اس سے زیادہ دن مقیم ہوں تو پھر چار رکعتیں (مکمّل نماز) پڑھتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 955]
تخریج الحدیث:
الرواة الحديث:
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي