صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
637. (404) باب ذكر الدليل على أن أمر النبى صلى الله عليه وسلم بإعادة تلك الصلاة التى قد نام عنها
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس نماز کے اعادے کا حُکم دینا
حدیث نمبر: 993
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، لا كَفَّارَةَ لَهَا إِلا ذَلِكَ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو وہ اسے یاد آنے پر پڑھ لے، اس نماز کا کفّارہ یہی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 993]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 597، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 684، وابن الجارود فى "المنتقى"، 265، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 991، 992، 993، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1555، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 612، وأبو داود فى (سننه) برقم: 442، والترمذي فى (جامعه) برقم: 178، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1265، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 695، 696، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3230، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12154»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 993 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 993
فوائد:
➊ ❀ «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا.»
یہ حدیث دلیل ہے کہ فوت شدہ فرض نماز کی قضا واجب ہے، خواہ وہ کسی عذر یعنی نیند یا بھول چوک کی وجہ سے چھوٹی ہو یا بلا عذر فوت ہوئی ہے۔
حدیث میں نسیان کی قید اس کے چھوٹنے کا سبب بیان کرنے کے لیے لگائی ہے۔
کیونکہ جب معذور شخص کا نماز کی قضا دینا واجب ہے تو غیر معذور شخص کا نماز کی قضا دینا بالاولیٰ واجب ہو گا۔
«فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا» یہ حکم استحباب پر محمول ہے اور فوت شدہ نماز کی قضا میں تاخیر بھی جائز ہے۔
اس کی وضاحت پچھلی احادیث 786، 798 میں بیان ہوئی ہے۔ [شرح النووي: 181/5]
➋ فوت شدہ نمازوں کو نماز کے ممنوعہ اوقات میں پڑھنا جائز ہے۔
➊ ❀ «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا.»
یہ حدیث دلیل ہے کہ فوت شدہ فرض نماز کی قضا واجب ہے، خواہ وہ کسی عذر یعنی نیند یا بھول چوک کی وجہ سے چھوٹی ہو یا بلا عذر فوت ہوئی ہے۔
حدیث میں نسیان کی قید اس کے چھوٹنے کا سبب بیان کرنے کے لیے لگائی ہے۔
کیونکہ جب معذور شخص کا نماز کی قضا دینا واجب ہے تو غیر معذور شخص کا نماز کی قضا دینا بالاولیٰ واجب ہو گا۔
«فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا» یہ حکم استحباب پر محمول ہے اور فوت شدہ نماز کی قضا میں تاخیر بھی جائز ہے۔
اس کی وضاحت پچھلی احادیث 786، 798 میں بیان ہوئی ہے۔ [شرح النووي: 181/5]
➋ فوت شدہ نمازوں کو نماز کے ممنوعہ اوقات میں پڑھنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 993]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 993 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري