اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
909. باب فى سعة رحمة الله تعالى وأنها سبقت غضبه
باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے اور اس کے غصے پر حاوی ہے
حدیث نمبر: 1750
1750 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: جَعَلَ اللهُ الرَّحْمَةَ مَائَةَ جُزْءٍ فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ جُزْءًا وَأَنْزَلَ فِي الأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا فَمِنْ ذلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ، حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا، خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا: ”اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس ان میں سے ننانوے حصے رکھے، صرف ایک حصہ زمین پر اتارا ہے اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچے کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کو اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے بچے کو تکلیف نہ پہنچے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب التوبة/حدیث: 1750]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 19 باب جعل الله الرحمة مائة جزء»
وضاحت: گھوڑی کا اپنے بچے پر اس درجہ رحم کرنا بھی قدرت کا ایک کرشمہ ہے۔ مگر کتنے لوگ دنیا میں ایسے ہیں کہ وہ رحم و کرم کرنا مطلق نہیں جانتے بلکہ ہر وقت ظلم پر اڑے رہتے ہیں۔ ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ جلد ہی وہ اپنے مظالم کی سزا بھگتیں گے کہ قانون قدرت ہی یہی ہے۔ (راز)
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1750 in Urdu