اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
909. باب فى سعة رحمة الله تعالى وأنها سبقت غضبه
باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے اور اس کے غصے پر حاوی ہے
حدیث نمبر: 1751
1751 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِن السَّبْيِ قَدْ تَحْلُبُ ثَدْيَهَا، تَسْقِي إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ، أَخَذَتْهُ، فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَرَوْنَ هذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ قلْنَا: لاَ وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لاَ تَطْرَحَهُ فَقَالَ: للهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ، مِنْ هذِهِ بِوَلَدِهَا
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے، قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا اور وہ دوڑ رہی تھی، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا، اس نے جھٹ اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی۔ ہم سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟“ ہم نے عرض کیا کہ نہیں، جب تک اس کو قدرت ہو گی یہ اپنے بچے کو آگ میں نہیں پھینک سکتی۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے، جتنا یہ عورت اپنے بچے پر مہربان ہو سکتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب التوبة/حدیث: 1751]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 18 باب رحمة الولد وتقبيله ومعانقته»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1751 in Urdu