المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
مالِ فئی (بغیر جنگ کے حاصل مال) کے مصارف کا بیان
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: ثنا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالا: وَاللَّهِ لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلامَيْنِ لِي، وَلِلْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: فَكَلَّمْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَاكَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَقَالَ: " أَلا إِنَّ الصَّدَقَةَ لا تَنْبَغِي لِمُحَمَّدٍ، وَلا لآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ" ادْعُ لِي مَحْمِيَةَ بْنَ الْجُزْءِ، وَكَانَ عَلَى الْعُشُورِ وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ فَأَتَيَاهُ، فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ: أَنْكِحْ هَذَا الْغُلامَ ابْنَتَكَ لِلْفَضْلِ فَأَنْكَحَهُ، وَقَالَ لأَبِي سُفْيَانَ: أَنْكِحْ هَذَا الْغُلامَ ابْنَتَكَ، فَأَنْكَحَهُ، ثُمَّ قَالَ لِمَحْمِيَةَ: أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ .
سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ بن الحارث بن عبد المطلب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ربیعہ بن الحارث اور عباس بن عبد المطلب اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے: الله کی قسم! اگر ہم ان دونوں لڑکوں یعنی مجھے (عبد المطلب بن ربیعہ) اور فضل بن عباس کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس بھیجیں تو آپ ان کو صدقات (کی وصولی) پر مقرر کر دیں۔ انہوں نے ساری حدیث بیان کی۔ کہتے ہیں: ہم نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے عرض کی: الله کے رسول! ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ ہمیں صدقات (وصول کرنے) پر مقرر کر دیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (صدقات) لوگوں کی میل کچیل ہیں، چنانچہ محمد صلی الله علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں۔ محمية بن جزء (عشر لینے پر مقرر تھے) کو اور ابو سفیان بن الحارث کو میرے پاس بلائیں۔ وہ دونوں آگئے تو آپ نے محمية سے فرمایا: اس لڑکے یعنی فضل کی شادی اپنی بیٹی سے کر دیں۔ تو انہوں نے اس کی شادی کر دی۔ ابو سفیان سے فرمایا: اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی سے کر دیں۔ تو انہوں نے بھی اس کی شادی کر دی۔ پھر آپ نے محمية سے کہا: ان کا مہر خمس سے ادا کر دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1072»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
ربيعة بن الحارث الهاشمي ← العباس بن عبد المطلب الهاشمي