یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
بدن اور کپڑوں کو نجاستوں سے پاک رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 139
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه، قَالَتْ:" دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ" ، وَقَالَ مَعْمَرٌ وَاللَّيْثُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا فَنَضَحَهُ.
سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا شیر خوردہ بچہ لے کر آئی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، تو آپ نے پانی منگوا کر چھڑک دیا۔ معمر، لیث اور عمرو بن حارث نے بھی اسے زہری سے روایت کیا ہے اور «فنضحه» کا لفظ ذکر کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 223، صحيح مسلم: 287»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 139 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← آمنة بنت محصن الأسدية